چپلی کباب کو چپلی کباب کیوں کہا جاتا ہے؟
ویسے تو کباب کئی طرح سے بنائے جاتے ہیں لیکن چپلی کباب کو ذائقہ کے ساتھ ساتھ اپنے نام کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس کا یہ منفرد نام کیسے پڑا؟
پاکستان، افغانستان اور دیگر کئی علاقوں میں یہ کباب بے حد مقبول ہیں اور لوگ آج بھی اس نام کے پیچھے چھپی کہانی جاننا چاہتے ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا نام مصالحوں یا پکانے کے انداز سے جڑا ہے، جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ یہ کسی شخص سے منسوب ہو سکتا ہے۔ لیکن اس نام کی وجہ دراصل اس کی شکل اور روایتی اندازِ تیاری سے جڑی ہوئی ہے۔
چپلی کباب قیمے سے تیار کیا جانے والا ایک چپٹا اور گول کباب ہے جسے مختلف مصالحوں، جڑی بوٹیوں اور بیجوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔
اسے عام طور پر بڑے لوہے کے توے پر کم تیل میں فرائی کیا جاتا ہے، جس سے اس کے کنارے خستہ جبکہ اندر کا حصہ نرم اور رسیلا رہتا ہے۔ یہ خاص طور پر پاکستان کے خیبر پختونخواہ اور شہر پشاور میں بے حد مقبول اسٹریٹ فوڈ ہے۔
لفظ ”چپلی“ دراصل پشتو زبان کے لفظ ”چپرخ“ یا ”چپدلی“ سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے ”چپٹا“ یا ”دبایا ہوا“۔ چونکہ اس کباب کو ہاتھ سے دبا کر چپٹی شکل دی جاتی ہے، اسی وجہ سے اسے چپلی کباب کہا جانے لگا۔ وقت کے ساتھ یہ لفظ آسان ہو کر ”چپلی“ بن گیا اور یہی نام عام استعمال میں آ گیا۔
اس کباب کی چپٹی ساخت نہ صرف اسے منفرد بناتی ہے بلکہ اس کے ذائقے کو بھی بہتر بناتی ہے۔ پتلی شکل کی وجہ سے کباب یکساں طور پر پک جاتا ہے، چکنائی اور مصالحے اچھی طرح جذب ہو جاتے ہیں اور کنارے مزید خستہ ہو جاتے ہیں۔ اکثر باورچی اس پر ٹماٹر کا ٹکڑا بھی رکھتے ہیں، جو فرائی ہونے کے بعد ہلکی سی کھٹاس اور مزید ذائقہ پیدا کرتا ہے۔
چپلی کباب کی جڑیں پاکستان اور افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں پائی جاتی ہیں، خاص طور پر پشاور میں یہ ایک ثقافتی اور روایتی ڈش سمجھی جاتی ہے۔
آج یہ ڈش دنیا کے کئی ممالک میں پسند کی جاتی ہے، لیکن اس کا اصل انداز اور ذائقہ اب بھی اپنی روایتی شکل میں برقرار ہے۔
چپلی کباب کا نام دراصل اس کی شکل کی سادہ اور واضح عکاسی کرتا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ بعض اوقات کسی کھانے کا نام ہی اس کی سب سے بڑی پہچان بن جاتا ہے۔
















