Live
Iran Israel War

ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں کتنے پاکستانی پھنسے ہیں؟ اسحاق ڈار نے تعداد بتا دی

35 ہزار پاکستانیوں کے انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات کر دیے گئے ہیں: وزیر خارجہ
شائع 03 مارچ 2026 04:23pm

سینیٹ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے ایران پر حملے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کوعالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فوری طور پر ایران، خطے کے ممالک اورعالمی قیادت سے رابطے کیے، مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرانے کی کوشش کی اور 35 ہزار پاکستانیوں کے انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات کر دیے گئے ہیں۔

منگل کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فضائی حدود کی بندش سے متعلق کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کی فضائی حدود بند ہیں، کئی افراد مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں، ایران میں 33 ہزار سے زائد پاکستانی موجود ہیں، زمینی راستے کھلے ہیں مگر سفر میں وقت لگتا ہے، ایران اور خلیجی ممالک کی صورت حال ابتر ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ثالثی کے لیے تیار تھے، وزارت خارجہ میں کرائسسز مینجمنٹ سیل 24 گھنٹے فعال ہے، کرائسسز مینجمنٹ سیل کے نمبر ایکس اکاؤنٹ پر موجود ہیں، تہران، زاہدان اور مشہد میں کرائسسز مینجمنٹ سیل فعال ہے، ابوظبی میں سفارت خانہ، دبئی اور جدہ میں قونصلیت فعال ہیں۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایران کے میزائل حملوں میں ابوظبی میں ایک پاکستانی شہری شہید ہوا، ایران سے 64 پاکستان آذربائیجان پہنچے ہیں، 300 ایرانی بھی پاکستان آئے ہیں جب کہ 792 پاکستان ایران سے واپس آچکے ہیں، عراق میں 40 ہزار پاکستانی ہیں اور بڑی تعداد میں زائرین ہیں، قطر میں ساڑھے 3 لاکھ پاکستانی ہیں، 1450 پاکستان قطر میں وزٹ ویزا پر موجود ہیں، کویت میں ایک لاکھ دو ہزار پاکستانی کام کررہے ہیں۔

ایران کی صورت حال پر بیان دیتے ہوئے نائب وزیراعظم کہا کہ جیسے ہی ایران پر حملے کی خبر موصول ہوئی، فوری طور پر وزارت خارجہ اور ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔ آیت اللہ علی خامنہ کی شہادت پر وزیراعظم کی جانب سے یکم مارچ کو باضابطہ تعزیتی بیان جاری کیا گیا جب کہ حکومتِ پاکستان اور پوری قوم نے افسوس اور مذمت کا اظہار کیا۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ گزشتہ سال 13 جون کو ایران پر حملہ ہوا تھا جو 12 دن بعد بند ہوا اور اُس وقت بھی پاکستان نے خطے کے تمام اہم ممالک سے رابطے کیے تھے، حالیہ کشیدگی کے دوران ترکی، مالدیپ، بنگلہ دیش، فلسطین، ازبکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، آذربائیجان اور یورپی یونین سمیت تیرہ رکن ممالک کی قیادت سے بات چیت کی گئی۔

وزیر خارجہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ 12 جون کو میری اور فیلڈ مارشل کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی، جس میں مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا گیا۔ پاکستان بیک ڈور سفارتکاری کے ذریعے میڈی ایشن کر رہا تھا اور ایران کا ردعمل مثبت تھا مگر پیشرفت کے باوجود حملہ کر دیا گیا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور پاکستان نے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے ایرانی مؤقف کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا قتل عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس وقت پورا خطہ شدید خطرات کی زد میں ہے۔

اسحاق ڈار نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اس وقت 35 ہزار پاکستانی ایران میں موجود ہیں، کمرشل پروازیں معطل ہیں تاہم تفتان سمیت دیگر دو بارڈرز فعال ہے اور اب تک 792 پاکستانیوں کو مختلف سرحدی راستوں سے نکالا جا چکا ہے۔ ایمرجنسی لائنز اور ہیلپ لائنز 24 گھنٹے فعال ہیں جب کہ آذربائیجان بارڈر پر پاکستانیوں کو ویزا سہولت فراہم کر رہا ہے۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کا اس معاملے پر مؤقف ایک ہے، تمام ممالک کے سفراء کو بریفنگ دی جا چکی ہے اور کل دونوں ایوانوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو اِن کیمرہ بریفنگ دی جائے گی۔ پاکستان شفافیت کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اس نازک وقت میں قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔

اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان نے فوری مذمت کر کے واضح مؤقف اختیار کیا، خارجہ پالیسی جذبات نہیں بلکہ قومی مفاد اور دفاع کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہے اور اس وقت خطہ ایسی صورتحال سے گزر رہا ہے جسے بعض حلقے جنگ عظیم سوم سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے ایران پر حملے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سینیٹ میں پیش رپورٹ کے مطابق مذاکرات کامیابی کے قریب تھے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ کسی ملک کی قیادت کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے اور خطے کے استحکام کے لیے ریجنل سیکیورٹی فریم ورک کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس کل تک ملتوی کر دیا گیا۔

بلند و بالا عمارتیں اور گرتے میزائل؛ کیا دبئی محفوظ شہر نہیں رہا؟

دبئی کا 'پرسکون جزیرہ' ہونے کا اعزاز خطرے میں: ایرانی حملوں کے معاشی اثرات
شائع 03 مارچ 2026 03:49pm

دہائیوں سے بلند و بالا عمارتیں، ٹیکس فری تنخواہیں اور کاروبار کرنے میں آسانی دبئی کی پہچان رہی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک غیر تحریری وعدہ چھپا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں چاہے جو کچھ بھی ہو، دبئی کے حالات مختلف رہیں گے۔

یہ تاثر عام تھا کہ خطے کی جنگیں اور عدم استحکام دبئی کی سرحدوں پر آکر رک جاتے ہیں، مگر گزشتہ ہفتے ہونے والے ایرانی حملوں نے اس سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

ایران کے جوابی حملوں نے دبئی کے اہم ایئرپورٹس، ہوٹلوں اور بندرگاہوں کو نشانہ بنایا ہے، ان حملوں نے اس شہر کی نفسیاتی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس نے چالیس سال خود کو دنیا کا محفوظ ترین کاروباری مرکز ثابت کرنے میں لگائے تھے۔

متحدہ عرب امارات کے حکام نے صورتحال کو قابو میں رکھنے اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں۔

نیشنل ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ حالات کنٹرول میں ہیں، لیکن وہ سرمایہ کار اور رہائشی جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے میزائل گرتے دیکھے اور اپنی ضرورت کا سامان ذخیرہ کرنا شروع کر دیا، ان کے لیے صرف یقین دہانیاں شاید کافی نہ ہوں۔

رائٹرز کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی کے معاشی ماڈل کے لیے یہ ایک بڑا خطرہ ہے کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ ایسی جگہوں سے بہت جلد نکل جاتا ہے جہاں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو۔

دبئی کے اسٹاک ایکسچینج پیر اور منگل کو بند رہے اور ایمازون کی کلاؤڈ سروسز متاثر ہونے کی وجہ سے بینکنگ کے نظام میں بھی خرابیاں پیدا ہوئیں۔

واضح رہے کہ دبئی کی معیشت اب تیل پر منحصر نہیں رہی، بلکہ اس کا 98 فیصد سے زیادہ حصہ سیاحت، تجارت اور رئیل اسٹیٹ سے آتا ہے۔

ماضی میں جب بھی خطے کے کسی ملک جیسے شام یا لبنان میں حالات خراب ہوئے، وہاں کا پیسہ اور باصلاحیت افراد دبئی آگئے، جس کی وجہ سے یہاں کی آبادی 1980 میں دس لاکھ سے بڑھ کر اب گیارہ کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔

گزشتہ سال دبئی دنیا بھر میں کروڑ پتی افراد کی ہجرت کے لیے سب سے پسندیدہ جگہ رہی۔ لیکن حالیہ حملوں نے اس کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے کہ ایران جیسا طاقتور پڑوسی دبئی کے تجارتی راستوں اور سمندری حدود کو کسی بھی وقت متاثر کر سکتا ہے۔

حالیہ حملوں میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور جبل علی پورٹ جیسی اہم جگہوں کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور اٹھاون زخمی ہوئے۔ لوگوں کو پہلی بار زیرِ زمین بنکروں میں پناہ لینا پڑی اور ایئرپورٹ کئی روز کے لیے بند کرنا پڑا۔

اس صورتحال نے بڑے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے اور کچھ کمپنیوں نے تو ابھی سے اپنے ملازمین کی تعداد کم کرنے اور فنڈز اکٹھا کرنے کا عمل روک دیا ہے۔

سونے کی مانگ میں بھی اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ لوگ اب نقدی کے بجائے محفوظ اثاثوں کی طرف جا رہے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ طویل ہوئی تو دبئی کا مستقبل مشکل میں پڑ سکتا ہے کیونکہ یہاں کی پوری معیشت کا دارومدار اس کے ’محفوظ‘ ہونے کے تاثر پر تھا۔

اگرچہ ماضی میں دبئی نے کورونا جیسی آفات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، لیکن موجودہ جغرافیائی اور سیاسی تناؤ ایک مختلف نوعیت کا چیلنج ہے۔

اب سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ یہ جنگ کتنی جلدی ختم ہوتی ہے، ورنہ بین الاقوامی کمپنیاں دبئی کے متبادل کے طور پر کسی دوسری محفوظ جگہ کی تلاش شروع کر سکتی ہیں۔

ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ کے 3 ممکنہ نتائج: امریکا کی کامیابی یا بڑی تباہی کے امکانات کتنے ہیں؟

صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر جس جنگ کا آغاز کیا ہے، اس میں ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد اب صورتحال کافی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
شائع 03 مارچ 2026 03:28pm

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک بیان دیتے ہوئے ایران کے خلاف فتح کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ مکمل طور پر صدر ٹرمپ کی شرائط اور ’امریکا فرسٹ‘ کی پالیسی کے تحت ختم ہوگی۔ تاہم ان کا یہ بیان 2001 میں سابق صدر جارج بش کے اس وعدے کی یاد دلاتا ہے جس میں انہوں نے نائن الیون کے بعد ایسی ہی فتح کی نوید سنائی تھی، لیکن اس کے نتیجے میں امریکا بیس سال تک طویل اور خونی جنگوں میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ موجودہ حکومت ماضی کے ان تلخ تجربات سے سبق سیکھنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر جس جنگ کا آغاز کیا ہے، اس میں ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد اب صورتحال دو انتہائی راستوں پر کھڑی ہے۔

ایک طرف تو یہ خطرہ ہے کہ غیر واضح مقاصد کے تحت شروع ہونے والی یہ جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں افراتفری پھیلا دے گی، جس میں ہزاروں عام شہری مارے جائیں گے اور مستقبل میں امریکا کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر جنم لے گی۔

دوسری طرف صدر ٹرمپ کے حامیوں کا خیال ہے کہ اگر وہ اپنے دشمن کو غیر مسلح کرنے اور ایران میں جمہوریت کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو یہ ان کی بڑی اسٹریٹجک جیت ہوگی۔

اس وقت ماہرین تین ممکنہ نتائج کی بات کر رہے ہیں۔

کونسل آن فارن ریلیشنز کے سینئر فیلو اور بش انتظامیہ میں خارجہ پالیسی کے سابق اعلیٰ عہدیدار ایلیٹ ابرامز کے مطابق، پہلا اور بہترین نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی فضائی حملوں کے بعد ایرانی عوام خود اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ایک نیا ایران جنم لے جو پورے خطے کو بدل دے۔

دوسرا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایران کے باقی ماندہ رہنما اقتدار پر گرفت برقرار رکھیں لیکن امریکا ان کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو اس حد تک تباہ کر دے کہ وہ خطے کے لیے خطرہ نہ رہیں۔

تیسرا اور بدترین نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایران کی حالت لیبیا جیسی ہو جائے جہاں حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کی وجہ سے خانہ جنگی شروع ہو جائے اور وہاں موجود جوہری مواد شدت پسند گروپوں کے ہاتھ لگ جائے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے مقاصد کے حوالے سے امریکی حکومت خود بھی الجھن کا شکار نظر آتی ہے۔

صدر ٹرمپ کبھی حکومت کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو کبھی جوہری پروگرام کی تباہی کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اسے اسرائیل کے تحفظ کے لیے ایک پیشگی کارروائی قرار دیتے ہیں۔

سینیٹر جین شاہین جیسے ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ وہ آخر چاہتے کیا ہیں، کیونکہ واضح حکمت عملی کے بغیر ایسی فضائی کارروائیاں شاید ہی کبھی کسی ملک میں مستحکم تبدیلی لا سکی ہوں۔

عوامی سطح پر بھی صدر ٹرمپ کو دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق دس میں سے چھ امریکی اس فوجی کارروائی کے مخالف ہیں۔

اگر یہ جنگ طویل ہوئی یا اس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں، تو ٹرمپ کے لیے اپنے ملک کے اندر سیاسی حمایت برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

جہاں وزیر دفاع فتح کا دعویٰ کر رہے ہیں، وہیں تاریخ دان اور سیاسی تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی حقیقتیں اکثر واشنگٹن میں بیٹھ کر بنائے گئے منصوبوں سے بالکل مختلف ہوتی ہیں اور اس جنگ کا انجام کیا ہوگا، یہ ابھی کوئی نہیں جانتا۔

ایران میں ہلاکتوں کی نئی تعداد جاری، امریکا کا نیوکلئیر سائٹ پر ایک اور حملہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ تصادم اب تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اپ ڈیٹ 03 مارچ 2026 03:32pm

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 787 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایرانی ہلالِ احمر نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں تصدیق کی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔

ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے اب تک ایران کے کم از کم 153 شہروں کو متاثر کیا ہے، جہاں مجموعی طور پر ایک ہزار 39 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ان کارروائیوں میں اب تک ملک بھر کے 504 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ان ہولناک حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 787 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

کیا آپ اس حوالے سے مزید جانی و مالی نقصانات یا امدادی کاموں کی تفصیلات جاننا چاہیں گے؟

اسی دوران اقوامِ متحدہ کے ایٹمی نگران ادارے نے بھی ایک اہم رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے شہر نطنز میں واقع ایٹمی ایندھن کی افزودگی کے مرکز کو حالیہ فضائی حملوں میں نقصان پہنچا ہے۔

تاہم عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اس نقصان سے فی الحال کسی قسم کی تابکاری پھیلنے کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ حملوں کا رخ ایٹمی مرکز کے زیرِ زمین حصے کی بیرونی عمارتوں کی طرف تھا۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ تصادم اب تیزی سے پھیل رہا ہے۔

گزشتہ رات ایران کے دارالحکومت تہران میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جب امریکا اور اسرائیل نے تہران میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب میزائل داغے، جنہیں روکنے کے لیے اسرائیلی دفاعی نظام متحرک رہا۔

ایران نے منگل کی صبح سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں موجود امریکی سفارت خانے پر بھی ڈرون حملہ کیا ہے۔

اس جنگ کے اثرات اب تیل اور گیس کی پیداوار والے اہم مراکز تک پہنچ رہے ہیں، جس سے عالمی معیشت کے لیے بھی خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔

لبنان میں بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے جہاں ایران کے حامی گروپ حزب اللہ نے اسرائیل پر میزائل برسائے، جس کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوج داخل کر دی ہے۔

اسرائیلی فوج نے سرحدی علاقوں میں اہم پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جبکہ لبنانی فوج نے سرحد کے قریب اپنے کچھ ٹھکانے خالی کر دیے ہیں۔

امریکیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے 15 ممالک فوری چھوڑنے کا حکم

تمام امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دستیاب کمرشل پروازوں کے ذریعے فوری طور پر مشرقِ وسطیٰ نکل جائیں۔
شائع 03 مارچ 2026 02:26pm

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی تصادم کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر امریکی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ کے پندرہ ممالک میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ان ممالک میں مقیم تمام امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیکیورٹی کے سنگین خطرات کے باعث دستیاب کمرشل پروازوں کے ذریعے فوری طور پر ان علاقوں سے نکل جائیں۔

جن ممالک کے لیے یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عمان، مصر، اردن، لبنان، عراق، ایران، اسرائیل، یمن، شام اور فلسطین کے علاقے شامل ہیں۔

حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے امریکی حکام نے منگل کے روز قطر، کویت، بحرین، عراق اور اردن سے اپنے غیر ضروری سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی خطے میں کئی امریکی سفارتی مشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔

سعودی عرب میں حالیہ ڈرون حملے کے بعد وہاں موجود امریکی مشن کو تین مارچ سے بند کر دیا گیا ہے اور جدہ، ریاض اور ظہران میں موجود امریکیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فی الحال اپنی جگہوں پر ہی رہیں۔

اسی طرح کویت میں امریکی سفارت خانے نے غیر معینہ مدت تک بندش کا اعلان کیا ہے اور تمام قونصلر ملاقاتیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

اسرائیل میں موجود امریکی سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ وہ شہریوں کو وہاں سے نکالنے یا براہِ راست مدد فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس لیے وہاں موجود امریکی شہری اپنے تحفظ اور واپسی کے لیے خود انتظامات کریں۔ جو شہری واپسی کے لیے حکومتی رہنمائی چاہتے ہیں ان کے لیے واشنگٹن نے چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ہیلپ لائنز قائم کر دی ہیں۔

یہ تمام اقدامات خطے میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے امریکی سفارتی مراکز کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور فوجی اڈوں کی طرف غیر ضروری سفر پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تلاش: بانی انقلاب کے پوتے حسن خمینی کا نام شہ سرخیوں میں

53 سالہ حسن خمینی اپنے دادا کے پندرہ پوتوں میں سب سے زیادہ معروف ہیں اور انہیں ایرانی نظام کے اندر ایک معتدل شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
شائع 03 مارچ 2026 02:08pm

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک حالیہ حملے میں ہلاکت کے بعد اب یہ سوال پوری شدت سے ابھرا ہے کہ ان کا جانشین کون ہوگا۔ اس دوڑ میں ایران کے بانیِ انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی کا نام خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ 53 سالہ حسن خمینی اپنے دادا کے پندرہ پوتوں میں سب سے زیادہ معروف ہیں اور انہیں ایرانی نظام کے اندر ایک معتدل شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

حسن خمینی تہران کے جنوب میں واقع اپنے دادا کے مزار کے متولی ہیں اور ان کے سابق صدور محمد خاتمی اور حسن روحانی جیسے اصلاح پسند رہنماؤں سے قریبی تعلقات ہیں۔

اگرچہ انہوں نے کبھی حکومت میں کوئی باضابطہ عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن وہ عوامی زندگی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔

ایران کے اندر کچھ سیاسی حلقے انہیں اُن رہنماؤں کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں جن کا خامنہ ای کے دور میں غلبہ رہا۔

حالیہ برسوں میں ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اب مصلحت پسند حلقوں میں یہ رائے زور پکڑ رہی ہے کہ عوامی ناراضی کو کم کرنے کے لیے کسی معتدل شخصیت کو آگے لایا جائے۔

حسن خمینی اگرچہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے نظام کے وفادار ہیں، لیکن وہ وقت فوقتاً اصلاحات کا مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے 2021 میں صدارتی امیدواروں کی جانچ پڑتال کرنے والی کونسل پر اس وقت تنقید کی تھی جب اصلاح پسندوں کو انتخاب لڑنے سے روکا گیا تھا۔

اسی طرح 2022 میں مہسا امینی کی دورانِ حراست موت پر بھی انہوں نے حکام سے شفاف تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم وہ نظام کے اتنے ہی بڑے حامی بھی ہیں، کیونکہ انہوں نے خامنہ ای کے خلاف نعرے لگانے والے مظاہرین کی مذمت کی اور حالیہ ہنگاموں کے دوران حکومت کے حق میں نکلنے والی ریلیوں میں شرکت بھی کی۔

رائٹرز کے مطابق، ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ حسن خمینی ایک روشن خیال عالم دین ہیں جو موسیقی، خواتین کے حقوق اور سماجی آزادیوں کے بارے میں ترقی پسند سوچ رکھتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ مغربی فلسفے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کی اہلیہ آیت اللہ کی صاحبزادی ہیں اور ان کے چار بچے ہیں۔ ماضی میں وہ ایران کے ایٹمی معاہدے کی حمایت کر چکے ہیں اور پابندیوں کی وجہ سے ایرانی عوام کو درپیش معاشی مشکلات پر بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

ایک دہائی قبل انہوں نے اس کونسل کا انتخاب لڑنے کی کوشش کی تھی جو سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے، لیکن اس وقت انہیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

ناقدین کا خیال ہے کہ ان کی نااہلی کی وجہ ان کی مذہبی قابلیت سے زیادہ سیاسی تھی تاکہ اصلاح پسندوں کو طاقت میں آنے سے روکا جا سکے۔

حسن خمینی کے پاس فی الحال ’حجۃ الاسلام‘ کا مذہبی درجہ ہے جو آیت اللہ سے ایک درجہ کم ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں وہ اصلاحات کی بات کرتے ہیں، وہیں وہ اسرائیل اور امریکا کے بارے میں سخت موقف بھی رکھتے ہیں۔

انہوں نے ماضی میں اسرائیل کو ایک کینسر قرار دیا اور ایرانی میزائل پروگرام کی کھل کر تعریف کی تھی۔

وہ عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور جوانی میں فٹ بال کے بہترین کھلاڑی بھی رہے ہیں، تاہم اپنے دادا کے حکم پر انہوں نے کھیل چھوڑ کر قم کے مدرسے سے دینی تعلیم حاصل کی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران کے طاقتور علما اور پاسدارانِ انقلاب انہیں ملک کے سب سے طاقتور عہدے کے لیے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

ایران خطے سے تیل کا ایک قطرہ بھی باہر نہیں جانے دے گا: پاسدارانِ انقلاب
شائع 03 مارچ 2026 02:05pm

ایران نے حالیہ کشیدگی کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز کو آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ابراہیم جباری نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں ایران اس اہم آبی گزرگاہ سے کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے۔ ہر وہ جہاز جو یہاں سے گزرنے کی کوشش کرے گا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔

ابراہیم جباری کا کہنا تھا کہ ایران خطے سے تیل کا ایک قطرہ بھی باہر نہیں جانے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے سے گزرنے والی تیل کی پائپ لائنوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ہزاروں ارب ڈالر کے قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور خطے کے تیل پر انحصار کرتا ہے، لیکن اسے جان لینا چاہیے کہ ایک قطرہ تیل بھی ان تک نہیں پہنچے گا۔

ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز تیل کی دنیا بھر میں ترسیل کے لیے اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ پوری دنیا میں تیل کی عالمی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد یہیں سے گزرتا ہے۔

پیر کے روز عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے مزید اوپر جا سکتی ہیں۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی آمد و رفت میں رکاوٹ اور خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث یہ خدشہ بڑھ گیا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے عالمی معیشت کے لیے تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن: ٹرمپ نے چار بڑے اہداف واضح کر دیے

تجزیہ کاروں اور میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے جواز کے بارے میں شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں۔
شائع 03 مارچ 2026 01:55pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جاری ایک اہم بیان میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے چار بنیادی اہداف کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔

ہفتے کے روز اسرائیل کے اشتراک سے شروع کیا جانے والا یہ آپریشن دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی میں ایک بڑے اضافے کی علامت ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف موجودہ خطرات کو ختم کرنا اور مستقبل کے خطرات کا راستہ روکنا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ مہم اس وقت شروع کی گئی جب ایران نے 2025 کے حملوں کے بعد اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ بحال نہ کرنے کی وارننگ کو نظر انداز کیا۔

اس آپریشن کے نتیجے میں اب تک ایران کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جس میں ایرانی سپریم لیڈر کی موت اور امریکی اہلکاروں کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔

تاہم کچھ تجزیہ کاروں اور میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ ان فوجی کارروائیوں کے جواز کے بارے میں شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے بیان کردہ پہلا ہدف ایران کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہے۔

امریکی صدر کا موقف ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام امریکی اڈوں اور خود امریکی سرزمین کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

امریکی حملوں میں اب تک ایران کے میزائل لانچ کرنے والے مقامات، گوداموں اور ان کی تیاری کے کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو میزائلوں کے پیچھے نہ چھپا سکے۔

دوسرا ہدف ایرانی بحریہ کی طاقت کا خاتمہ ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارت اور بحری جہازوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایرانی بحری صلاحیتوں کو ملیامیٹ کر رہی ہیں۔

اب تک کی کارروائیوں میں ایران کے کم از کم دس بحری جہاز ڈوبنے کی اطلاعات ہیں۔

امریکا کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم کسی طویل جنگ میں الجھے بغیر ایرانی خطرے کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

تیسرا اہم مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے لیکن کسی صورت اسے ایٹمی طاقت بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا جس کی وجہ سے یہ پیشگی کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔

چوتھا اور آخری ہدف ایران کی جانب سے بیرون ملک مسلح گروہوں کی مالی اور عسکری امداد کو روکنا ہے۔

امریکا کا الزام ہے کہ ایران ہر سال اربوں ڈالر حزب اللہ، حماس اور حوثی باغیوں جیسے گروہوں کو فراہم کرتا ہے جو خطے میں امریکی مفادات پر حملے کرتے ہیں۔

ان حملوں کے ذریعے ایران کے سپلائی نیٹ ورک اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اس کا علاقائی اثر و رسوخ ختم کیا جا سکے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ آپریشن چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے تاہم ضرورت پڑنے پر اس کی مدت بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔

جہاں امریکی حکام اسے دفاعی ضرورت قرار دے رہے ہیں وہیں عالمی سطح پر اس کے انسانی اور جغرافیائی اثرات کے حوالے سے تشویش بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔

ایران جنگ پر تنقید، مخالفین کو مطمئن نہ کر پانے پر ٹرمپ جھنجھلاہٹ کا شکار

ایران کے خلاف کارروائی ملکی سلامتی کے لیے ضروری تھی: ٹرمپ
اپ ڈیٹ 03 مارچ 2026 02:47pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگی کارروائی پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے خلاف کارروائی ملکی سلامتی کے لیے ضروری سمجھی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ اس وقت جنگ کیوں ضروری تھی اور اس تنازع کا انجام کیا ہوگا۔

امریکی میڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر صدور یہ کہتے ہیں کہ زمینی فوج نہیں بھیجی جائے گی، لیکن وہ ایسا کوئی وعدہ نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ غالب امکان ہے کہ اس کی ضرورت پیش نہ آئے، لیکن اگر ضروری ہوا تو فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ انتظامیہ یہ نہیں بتائے گی کہ وہ کیا کرے گی یا کیا نہیں کرے گی، کیونکہ اس طرح دشمن کو پہلے سے معلومات مل سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل، خطے میں موجود امریکی اڈوں اور خلیجی ممالک کی طرف ڈرون اور میزائل حملے جاری ہیں۔

پیر کے روز اسرائیل اور لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے درمیان بھی حملوں کا تبادلہ ہوا، جس سے تنازع ایک نئے محاذ تک پھیل گیا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ انتخابی مہم میں ”امریکا فرسٹ“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے تھے اور انہوں نے ماضی کی طویل جنگوں سے دور رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے قوم سازی اور حکومتوں کی تبدیلی کی پالیسی کو ناکام قرار دیا تھا۔

تاہم اب وہ ایک ایسے تنازع میں شامل ہیں جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں ایک طویل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

ان کے کچھ قریبی اتحادیوں نے بھی اس فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔

معروف سکیورٹی کنٹریکٹر ایرک پرنس نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ وہ اس صورتحال سے خوش نہیں ہیں اور انہیں نہیں لگتا کہ یہ قدم امریکا کے مفاد میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے خطے میں مزید انتشار اور تباہی پھیل سکتی ہے۔ کچھ دیگر قدامت پسند شخصیات نے بھی ایران پر حملے کے فیصلے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

تاہم ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حامی ان کے اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا معاملہ ایک ایسا راستہ ہے جس پر چلنا ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

ریپبلکن رکن کانگریس ٹم برچیٹ نے بھی صدر کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران ماضی میں امریکیوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، اس لیے اقدام ناگزیر تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی منصوبے سے آگے بڑھ رہی ہے اور اندازہ ہے کہ چار سے پانچ ہفتوں میں اہداف حاصل ہو سکتے ہیں، اگرچہ اس میں زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔

وزیر دفاع ہیگستھ نے مدت کے حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کی مدت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق اب تک ایران کی جوابی کارروائیوں میں چھ امریکی اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہو چکے ہیں۔

ادھر ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آگے ایران کی قیادت کون سنبھالے گا۔

امریکی انتظامیہ نے اس بارے میں کوئی واضح منصوبہ پیش نہیں کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی پاسداران انقلاب سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فضائی حملوں سے حکومت کی تبدیلی مشکل ہوتی ہے۔

واشنگٹن کے تھنک ٹینک کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر تریتا پارسی کا کہنا ہے کہ ممکن ہے انتظامیہ مکمل حکومت کی تبدیلی کے بجائے نظام کے اندرونی ٹوٹ پھوٹ پر اکتفا کرے۔

ان کے مطابق یہ حکمت عملی مختلف نتائج لا سکتی ہے اور اس کے اثرات طویل مدتی ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی خفیہ بریفنگز میں کانگریس کو بتایا گیا کہ ایران کی جانب سے فوری طور پر امریکا پر حملے کی تیاری کے شواہد نہیں تھے، البتہ خطے میں اس کے میزائل اور اتحادی گروہوں کی سرگرمیوں سے عمومی خطرہ موجود تھا۔

صدر ٹرمپ نے پھر بھی یہ مؤقف دہرایا کہ ایران ایسے بیلسٹک میزائل بنانے کی کوشش کر رہا تھا جو امریکا تک پہنچ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام وسیع ہے، لیکن اس وقت جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی فعال پروگرام موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے متاثرہ جوہری مراکز تک معائنہ کاروں کی رسائی کی اجازت نہیں دی ہے۔

اسلحہ کنٹرول ایسوسی ایشن کی ماہر کیلسے ڈیونپورٹ نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کو جوہری پھیلاؤ روکنے کی حکمت عملی نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ سائنسی معلومات کو بمباری سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

کراچی: قونصل خانے میں مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی: حکام

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک شخص کو قونصل خانے کی سمت فائرنگ کرتے اور زخمی مظاہرین کو بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
شائع 03 مارچ 2026 01:35pm

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں واقع امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے شدید احتجاج کے دوران فائرنگ یو ایس میرینز (امریکی فوجی اہلکاروں) نے کی تھی، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق ہوئے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، امریکی حکام نے پیر کے روز بتایا کہ اتوار کو مظاہرین نے قونصل خانے کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس دوران امریکی میرینز نے فائرنگ کی۔

یہ واقعہ امریکی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں شروع ہونے والے احتجاج کے دوران پیش آیا۔

امریکی حکام کے مطابق مظاہرین نے اتوار کے روز قونصل خانے کی بیرونی دیوار عبور کر لی تھی جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔

حکام یہ نہیں بتا سکے کہ آیا قونصل خانے کی حفاظت پر مامور دیگر اہلکاروں، جیسے نجی سیکیورٹی گارڈز یا مقامی پولیس نے بھی فائرنگ کی یا نہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں میرینز نے براہ راست فائرنگ کی۔

صوبائی حکومت کے ترجمان سکھ دیو اسرداس ہیمنانی نے کہا کہ فائرنگ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے کی گئی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا تعلق کس ادارے سے تھا۔

ایک مقامی پولیس افسر نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ فائرنگ قونصل خانے کے اندر سے کی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق اس دوران فائرنگ کے ساتھ ساتھ آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے گئے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک شخص کو قونصل خانے کی سمت فائرنگ کرتے اور زخمی مظاہرین کو بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران پر ہونے والے حملوں کے بعد پاکستان میں احتجاج پھیل گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں پیر کے روز حکومت نے ملک بھر میں بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی تھی۔

رائٹرز کے مطابق مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں مجموعی طور پر 26 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کراچی میں امریکی قونصل خانے کی جانب جانے والی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

اسی طرح اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور لاہور میں امریکی مشن کے اطراف بھی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ایران کی بحرین میں امریکی ملٹری بیس پر ڈرون اور میزائلوں کی بارش، ویڈیو جاری

پاسدارانِ انقلاب نے منگل کی صبح بحرین میں امریکی ملٹری بیس کو نشانہ بنانے کے دعویٰ کیا ہے
شائع 03 مارچ 2026 01:32pm

ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے تازہ کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدانِ انقلاب کی بحری فورسز نے منگل کی صبح بحرین کے علاقے شیخ عیسیٰ میں واقع امریکی فضائی اڈے پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل داغے۔

رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں 20 ڈرونز اور 3 میزائلوں نے کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مرکزی کمانڈ سینٹر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق اس حملے میں ایندھن کے ذخائر میں بھی آگ بھڑک اٹھی، جس کے شعلے اور دھواں دور تک دکھائی دیا۔

ایرانی میڈیا نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جسے بحرین میں امریکی اڈے پر حملے کے وقت کا منظر قرار دیا ہے۔

اس سے قبل پاسدرانِ انقلاب کے ڈرون یونٹ نے کویت میں موجود امریکی بیس ’عریفجان ایئرفیلڈ‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

ایران اسرائیل جنگ: میزائل حملے

.
شائع 03 مارچ 2026 01:18pm
بیروت (لبنان) میں اسرائیلی حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے
بیروت (لبنان) میں اسرائیلی حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے
بیئرشبا (اسرائیل) میں ایرانی میزائل حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔
بیئرشبا (اسرائیل) میں ایرانی میزائل حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔
شیمیس (اسرائیل) میں سائرن بجنے کے بعد لوگ اپنا بچاؤ کرتے ہوئے۔
شیمیس (اسرائیل) میں سائرن بجنے کے بعد لوگ اپنا بچاؤ کرتے ہوئے۔
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد ہلاکتیں
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد ہلاکتیں
سرائیلی حملے کے بعد بیروت کے جنوبی مضافات میں اعمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے
سرائیلی حملے کے بعد بیروت کے جنوبی مضافات میں اعمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے
اسرائیلی حملے کے بعد امدادی ٹیم کے اہلکار بیروت کے جنوبی مضافات میں کام کر رہے ہیں۔
اسرائیلی حملے کے بعد امدادی ٹیم کے اہلکار بیروت کے جنوبی مضافات میں کام کر رہے ہیں۔
یروشلم میں ایرانی میزائل حملے کے بعد اسرائیلی ایمرجنسی اہلکار سڑک پر امدادی کارروائی کر رہے ہیں۔
یروشلم میں ایرانی میزائل حملے کے بعد اسرائیلی ایمرجنسی اہلکار سڑک پر امدادی کارروائی کر رہے ہیں۔
اسرائیل: سائرن کی آواز پر شہری اپنا بچاؤ کرتے ہوئے۔
اسرائیل: سائرن کی آواز پر شہری اپنا بچاؤ کرتے ہوئے۔
اسرائیل: سائرن کی آواز پر شہری اپنا بچاؤ کرتے ہوئے۔
اسرائیل: سائرن کی آواز پر شہری اپنا بچاؤ کرتے ہوئے۔
بیروت (لبنان) کے جنوبی مضافات پر اسرائیل کی طرف سے حملہ۔
بیروت (لبنان) کے جنوبی مضافات پر اسرائیل کی طرف سے حملہ۔
بیروت (لبنان) کے جنوبی مضافات میں ایک ایمرجنسی ریسپونڈر کارروائی کر رہا ہے۔
بیروت (لبنان) کے جنوبی مضافات میں ایک ایمرجنسی ریسپونڈر کارروائی کر رہا ہے۔
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد ہلاکتیں
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد ہلاکتیں
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد ہلاکتیں
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد ہلاکتیں
ایرانی میزائل حملے کے بعد ایک شخص کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ایرانی میزائل حملے کے بعد ایک شخص کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ایرانی میزائل حملے کے بعد یروشلم میں امدادی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
ایرانی میزائل حملے کے بعد یروشلم میں امدادی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
اسرائیلی حملے کے بعد تہران کا منظر۔
اسرائیلی حملے کے بعد تہران کا منظر۔
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد ہلاکتیں
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد ہلاکتیں
بیروت (لبنان) کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی حملوں کے بعد دھواں اُٹھ رہا ہے۔
بیروت (لبنان) کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی حملوں کے بعد دھواں اُٹھ رہا ہے۔
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد ہلاکتیں
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے بعد ہلاکتیں
ہیبرون (مغربی کنارہ) سے دیکھا گیا ایرانی میزائل جو اسرائیل کی جانب داغا گیا ہے۔
ہیبرون (مغربی کنارہ) سے دیکھا گیا ایرانی میزائل جو اسرائیل کی جانب داغا گیا ہے۔

ایران اور اسرائیل جنگ نے شدت اختیار کرلی ہے، دونوں جانب سے ایک دوسرے پر میزائل حملے جاری ہیں جس کے نتیجے میں ہلاکتوں، شہری علاقوں میں تباہی اور ہنگامی صورتِ حال ہے۔ شہریوں کو کن حالات کا سامنا ہے، تباہی کے بعد عمارتیں کس حال میں ہیں، امدادی کارروائیاں کس طرح جاری ہیں، یہ سب ان تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

اسرائیلی مفادات کے لیے امریکا اپنے اور ہمارے شہریوں کو مروا رہا ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

مارکو روبیو نے تسلیم کیا کہ امریکا نے اسرائیل کی خاطر یہ جنگ مسلط کی: عباس عراقچی کا بیان
اپ ڈیٹ 03 مارچ 2026 01:03pm

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے ایران پر حملے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اسرائیل کے مفادات کی خاطر اپنے اور ایرانی شہریوں کو مروا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ’وہ بات جو سب پہلی ہی جانتے تھے بالاخر مارکو روبیو نے اس کا اعتراف کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو ایران سے کبھی بھی خطرہ نہیں تھا، اس نے صرف اسرائیل کی خاطر یہ جنگ مسلط کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل فرسٹ‘ پالیسی کے راگ الاپنے والے ہی امریکی اور ایرانی شہریوں کے خون کے ذمہ دار ہیں۔ امریکی عوام بہتر قیادت کے مستحق ہیں، نہیں اپنا ملک واپس لینا چاہیے۔

عباس عراقچی کا یہ بیان امریکی وزیرِ خارجہ روبیو کے ایران پر حملوں سے متعلق حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔

مارکو روبیو نے ایک بیان میں تسلیم کیا ہے کہ امریکا نے ایران پر حملے اس لیے کیے کیوں کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ انہوں نے اس حملے کے جواب میں ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کو اسرائیل کے ساتھ شامل ہونے کی وجہ بتایا۔

مارکو روبیو سے سوال کیا گیا کہ امریکا کو ایران سے فوری طور پر کوئی خطرہ تھا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ اس بات کا انحصار اسرائیلی منصوبے پر منحصر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے تھے کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو وہ فوری طور پر ہمارے خلاف کارروائی کرے گا۔

امریکی فوج نے اب تک ایرانی حملوں میں 6 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جب کہ ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں کم از کم 555 ایرانی جاں ہو چکے ہیں۔

اسرائیل اپنا اثر و رسوخ پاکستان کی سرحد تک لانا چاہتا ہے: خواجہ آصف

پڑوس میں واقع چند ممالک کا واحد مشترکہ ایجنڈا پاکستان کے خلاف دشمنی پر مبنی ہے: وزیرِ دفاع خواجہ آصف
شائع 03 مارچ 2026 11:46am

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دنیا پر جنگیں مسلط کرنے کے پیچھے صہیونی سوچ کار فرما ہے۔ ایران کی معاہدے پر آمددگی کے باوجود جنگ مسلط کردی گئی۔ دشمن چاہتے ہیں کہ اسرائیل کا اثر پاکستان کی سرحد تک پہنچے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان میں کہا ہے کہ صہیونیت پوری انسانی تہذیب کے لیے خطرہ ہے۔ اسرائیل کے قیام سے لے کر آج تک عالمِ اسلام پر آنے والی ہر تباہی اور جنگ میں یہی صہیونی ہاتھ شامل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی طاقتوں نے عالمی معاشی نظام پر کنٹرول قائم کیا ہوا ہے، بڑی طاقتیں اس کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ ہماری ایٹمی قوت اور مسلح افواج کی بدولت ہماری خودمختاری محفوظ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے معاہدے پر آمادگی کے باوجود ان پر جنگ مسلط کی گئی۔ اس جنگ کا مقصد اسرائیل کے اثر و رسوخ کو پاکستان کی سرحد تک لانا ہے۔

بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ملک کو چاروں طرف سے دشمنوں سے گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمارے پڑوس میں واقع چند ممالک کا واحد مشترکہ ایجنڈا پاکستان کے خلاف دشمنی پر مبنی ہے، جس سے ہماری سرحدوں کو بھی خطرہ ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستانی عوام کو سیاسی اور مذہبی وابستگی سے بالاتر ہوکر دشمن کی اس سازش کو سمجھنا ہوگا۔

حزب اللہ کا اسرائیلی ایئربیس پر ڈرونز سے حملہ، صیہونی فورسز کی بیروت پر پھر بمباری

لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملوں میں اب تک 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں
اپ ڈیٹ 03 مارچ 2026 12:19pm

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملوں کے بعد مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں واقع ’رامات ڈیوڈ ایئربیس‘ پر ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا ہے۔

حزب اللہ کی جانب سے منگل کی صبح جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے صبح 5 بجے اسرائیلی ایئربیس کی ریڈار سائٹس اور کنٹرول رومز کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔

تنظیم کے مطابق یہ کارروائی اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں کی گئی ہے، جس میں اس نے بیروت کے جنوبی علاقوں سمیت لبنان کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا اور درجنوں افراد کو شہید کیا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ رامات ڈیوڈ ایئربیس پر کیا گیا ڈرون حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔

منگل کی صبح اسرائیلی فضائیہ نے سوشل میڈیا پر بیان میں بیروت اور تہران پر دوبارہ فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان نے بیروت کے جنوبی مضافات کے رہائشیوں کو ہنگامی وارننگ جاری کی تھی ، جس میں ایک عمارت کی نشاندہی کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اس علاقے میں حزب اللہ کی تنصیبات اور ٹھکانے واقع ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری نقشے میں عمارت اور اس کے آس پاس موجود افراد سے فوری طور پر نقل مکانی کرنے اور کم از کم 300 میٹر دور جانے کی درخواست کی گئی تھی۔

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں اب تک 50 سے زائد افراد جاں بحق جب کہ ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہیں۔ بیروت اور دیگر علاقوں میں بمباری کے بعد متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔

سعودی عرب کی آرامکو آئل ریفائنری پر اسرائیل نے حملہ کیا: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

اسرائیل کے اگلے فالس فلیگ حملے میں متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ بھی شامل ہے: ایرانی میڈیا
شائع 03 مارچ 2026 09:52am

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق نے ایران کے عسکری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملہ اسرائیلی ’فالس فلیگ‘ کارروائی کا حصہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے ان حملوں کا مقصد علاقائی ممالک کو گمراہ کرنے کی کوشش اور ایران میں شہری مقامات پر اسرائیلی حملوں سے توجہ ہٹانا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ایران نے واضح اعلان کر رکھا ہے کہ وہ خطے میں تمام امریکی اور اسرائیلی مفادات، تنصیبات اور سہولیات کو نشانہ بنائے گا اور متعدد اہداف پر حملے کیے بھی جا چکے ہیں، تاہم آرامکو آئل ریفائنری ان اہداف میں شامل نہیں ہے۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق اسرائیل کے اگلے فالس فلیگ حملے کے اہداف میں متحدہ عرب امارات کے الفجیرہ بندرگاہ کو بھی شامل کیا گیا ہے اور اسرائیل اس پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

آرامکو سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی سمجھی جاتی ہے، جس پر گزشتہ روز ڈرون حملہ ہوا تھا۔

سعودی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ریفائنری کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ریفائرنری کو نشانہ بنانے والے دونوں ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم ان کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

امریکی فوج کی ایرانی حملوں میں 6 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق

ایران کے خلاف کارروائیوں میں 18 امریکی فوجی شدید زخمی ہیں: ترجمان سینٹ کام
اپ ڈیٹ 03 مارچ 2026 12:26pm

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 6 ہو گئی ہے۔ جب کہ سینٹ کام کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ 18 اہلکار اس وقت شدید زخمی ہیں۔

سینٹ کام نے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں بتایا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران اب تک 6 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج کو حال ہی میں مزید دو لاپتہ اہلکاروں کی باقیات ملی ہیں۔ دونوں لاشیں اسی مقام سے ملی ہیں جسے ایران نے ابتدائی حملوں کے دوران نشانہ بنایا تھا۔

رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دوران امریکی فوجی کویت کے فوجی اڈے میں ہلاک ہوئے۔

سینٹ کام کے مطابق ہلاک اہلکاروں کی شناخت اہلِ خانہ کو اطلاع دینے کے 24 گھنٹے بعد ظاہر کی جائے گی۔

سینٹ کام نے ایران کے خلاف حملوں کے آغاز کے بعد اتوار کو تین اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

پیر کو سینٹ کام نے چوتھے اہلکار سے متعلق بتایا تھا کہ وہ ایران کے ابتدائی حملوں کے دوران شدید زخمی ہوا تھا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے جاری، 52 افراد جاں بحق، 154 زخمی

ملک بھر میں 171 پناہ گاہیں قائم کر دی گئی ہیں، تقریباً 29 ہزار بے گھر افراد مقیم ہیں: لبنانی وزیر کا بیان
اپ ڈیٹ 03 مارچ 2026 10:28am

لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 52 ہو گئی ہے جب کہ 154 افراد زخمی ہیں۔ بیروت اور دیگر علاقوں میں بمباری کے بعد متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔

رپورٹ کے مطابق وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الجنہ میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد شہری جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے البقاع اور بیروت کے جنوبی مضافات میں وسیع پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں درجنوں عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

لبنانی وزیر برائے سماجی امور حنین سید نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں 171 پناہ گاہیں قائم کر دی گئی ہیں جہاں اس وقت تقریباً 29 ہزار بے گھر افراد کو رکھا گیا ہے۔

ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا جواب دیا جائے گا: صدر ٹرمپ

حملے جنگ کا حصہ ہیں، لوگ پسند کریں یا نہ کریں جنگ اسی طرح ہوتی ہے: صدر ٹرمپ کی امریکی ٹی وی سے گفتگو
شائع 03 مارچ 2026 08:44am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سفارت خانے پر ڈرون حملے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا جواب دیا جائے گا اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر بھی بھرپور ردعمل دیں گے۔

صدر ٹرمپ نے ریاض میں سفارت خانے پر حملے کے بعد مختلف میڈیا اداروں سے مختصر گفتگو کی ہے۔

امریکی ٹی وی چینل نیوز نیشن سے مختصر گفتگو میں صدر ٹرمپ نے امریکا کی جوابی کارروائی کے بارے میں سوال پر کہا کہ ’آپ کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا‘۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران میں زمینی افواج بھیجنے کی ضرورت کا امکان کم ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’ہم انہیں زبردست نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایران میں اہداف کے حصول سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’میں بہت کچھ جانتا ہوں، جب ہدف حاصل ہو جائے گا تو پتہ لگ جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ ہم انہیں پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ امریکی تنصیبات یا امریکی سرزمین پر ممکنہ حملوں سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’نہیں، یہ جنگ کا حصہ ہے۔ لوگ اسے پسند کریں یا نہ کریں، جنگ اسی طرح ہوتی ہے۔

سعودی دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملے

حملے کے وقت سفارت خانے کی عمارت خالی تھی، محدود آگ اور عمارت کو معمولی نقصان پہنچا: خبر ایجنسی
شائع 03 مارچ 2026 08:05am
فائل فوٹو
فائل فوٹو

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرونز نے نشانہ بنایا ہے۔ سعودی وزارتِ دفاع نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عمارت کو معمولی نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

سعودی وزارتِ دفاع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ منگل کی صبح ریاض میں واقع امریکی سفارت خانے پر دو ڈرونز سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد سفارتی کمپاؤنڈ میں آگ بھڑک اٹھی۔

بیان کے مطابق حملے کے بعد لگنے والی آگ محدود پیمانے کی تھی اور عمارت کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حملے کے بعد ریاض کے ڈپلومیٹک کوارٹر سے سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جہاں مختلف ممالک کے سفارتی مشن قائم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی اور سفارت خانے کی عمارت سے شعلے بلند ہوتے دیکھے۔

رائٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ حملے کے وقت سفارت خانے کی عمارت خالی تھی اور کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

منگل کے روز امریکی سفارت خانے نے ریاض، جدہ اور ظہران میں موجود امریکی شہریوں کو ’شیلٹر اِن پلیس‘ رہنے کی ہدایت جاری کی۔

سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب میں مقیم امریکی شہری محفوظ مقامات پر محصور رہیں اور مزید اطلاع تک سفارت خانے کا رخ نہ کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی مشن خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب سعودی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض سمیت ملحقہ علاقوں میں 8 ڈرونز کو فضا میں تباہ کر دیا گیا ہے۔

لبنان کے جنوب، مشرق اور بیروت میں اسرائیل کی بمباری، ہلاکتیں 50 سے زائد ہو گئیں

لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں اور بیروت کے جنوبی مضافات سے 28,500 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے، حزب اللہ پر پابندی عائد کر دی گئی۔
شائع 02 مارچ 2026 11:58pm

لبنان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں میں کم از کم 52 افراد ہلاک اور 154 زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وزارت صحت کی رپورٹ میں 31 ہلاکتیں اور 149 زخمی بتائے گئے تھے۔

حکومت کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ یونٹ کے مطابق حملے لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں کے علاوہ بیروت کے جنوبی مضافات پر بھی کیے گئے، جس کے نتیجے میں 28,500 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے لبنان بھر میں حزب اللہ سے منسلک اہداف پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ فوج نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔

عینی شاہدین کے مطابق لبنانی دارالحکومت بیروت میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہر کے مختلف حصوں سے دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں نے کئی علاقوں کو متاثر کیا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی میں پیر کے روز ایک نیا محاذ اس وقت کھلا جب حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون داغے۔ یہ حملے اسرائیل کے شمالی علاقوں کی طرف کیے گئے، جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں وسیع فضائی کارروائیاں شروع کر دیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو نشانہ بنایا جہاں حزب اللہ کا اثر و رسوخ ہے اور کئی اہم جنگجوؤں کو ہدف بنایا گیا۔

لبنان کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں میں کم از کم 52 افراد ہلاک اور 154 زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وزارت صحت کی رپورٹ میں 31 ہلاکتیں اور 149 زخمی بتائے گئے تھے۔

اسرائیل نے حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو ”نیا ہدف“ قرار دیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال لبنان میں زمینی کارروائی پر غور نہیں کیا جا رہا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بیروت میں رات گئے حملے میں حزب اللہ کے انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کے سربراہ حسین مقلد کو ہلاک کیا، تاہم اس بارے میں حزب اللہ کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 18 قصبوں اور دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ ان علاقوں کو حزب اللہ عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں دیر الزہرانی، السلطانیہ، طول، حابوش، ساحلی شہر صور، دیر قنون النہر اور بقاع وادی کا قصبہ مشغرا شامل ہیں۔ انخلا کے احکامات کے بعد کئی خاندان محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیاں غیر قانونی ہیں اور گروپ کو اپنے ہتھیار ریاستی اداروں کے حوالے کرنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کی سرزمین سے ریاستی فریم ورک سے باہر کسی بھی فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

لبنانی وزیراعظم نے 2024 میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی پر عملدرآمد اور مذاکرات کی بحالی کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

امریکا اور اسرائیل کے 500 اہداف پر سیکڑوں ڈرونز اور میزائل حملے کیے: پاسدارنِ انقلاب

اب تک 700 سے زائد ڈرونز اور سیکڑوں میزائل داغے جا چکے ہیں۔
اپ ڈیٹ 02 مارچ 2026 11:46pm

پاسدارانِ انقلاب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے  تیسرے روز تک مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ 500 اہداف کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ تیسرے روز تک جاری لڑائی میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ 500 اہداف کو نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان کارروائیوں میں 60 اسٹریٹیجک اہداف اور 500 امریکی فوجی ٹھکانوں اور اسرائیل کے اہداف پر حملے شامل ہیں اور اب تک 700 سے زائد ڈرونز اور سیکڑوں میزائل داغے جا چکے ہیں۔

ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن کے مطابق ایران نے پیر کو اسرائیل کے شہر بیئر شیوا میں میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہر داغی، جو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایٹھی نووا نامی امریکی اتحادی ٹینکر پر ہرمز کی تنگی میں دو ڈرون حملے کیے، جس کے بعد ٹینکر ابھی بھی جل رہا ہے۔ جمعہ کو، پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ یو ایس اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پانی کے راستے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا، جو تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ایران کے میزائل حملوں میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا دفتر اور اسرائیلی فضائیہ کمانڈر کا ہیڈکوارٹر بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں خیبر میزائل استعمال کیے گئے۔

اس کے علاوہ تل ابیب میں حکومت کی عمارت، حیفا میں سیکیورٹی اور فوجی مراکز اور مشرقی یروشلم بھی ایران کے میزائل حملوں کی زد میں آئے۔

ادھر امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں میں ایران کی جانب سے تین پاسداران انقلاب کے ارکان اور پانچ ایرانی فوجی مارے گئے لورستان صوبے میں پاسداران انقلاب کے ایک دستے پر حملے میں تین اہلکار اور شہر خرم آباد میں ایرانی فوج کے پانچ ارکان جاں بحق ہوئے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر ایران اور اسرائیل کے درمیان فضائی اور میزائل حملوں نے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے، جب کہ عالمی برادری خدشات کا اظہار کر رہی ہے کہ صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔

ایران کو ابھی سختی سے نہیں مارا، بڑا حملہ جلد ہوگا: ٹرمپ کی تہران کو نئی دھمکی

امریکی صدر نے ایران پر ایک بڑے حملے کی بھی دھمکی دے دی۔
اپ ڈیٹ 03 مارچ 2026 12:03am

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر زمینی جنگ بھی بھیج سکتا ہے۔ انھوں نے ایران پر بڑے حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر ہم نے حملہ اتنی شدت سے نہیں کیا، بڑا حملہ تو ابھی آرہا ہے۔

واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو دہشت گرد حکومت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا یہ اقدامات اپنی حفاظت اور عالمی اتحادیوں کے تحفظ کے لیے کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران نے امریکی و یورپی وارننگز کو نظر انداز کیا اور اس کا ایٹمی پروگرام خطے اور بین الاقوامی برادری کے لیے خطرہ ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے میزائل خوبصورت اور امریکا تک پہنچنے کے قابل تھے اور ایران مشرق وسطیٰ کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس لمبے فاصلے کے میزائل اور جوہری ہتھیار ہوں، تو یہ مشرق وسطیٰ اور امریکا دونوں کے لیے بڑا خطرہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا ہونے پر امریکا خود بھی خطرے میں ہوگا۔

انہوں نے سابق ایرانی جنرل سلیمانی کو روڈ سائیڈ بموں کا باپ قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اپنے پہلے دور میں انہوں نے سلیمانی کو ہلاک کیا اور ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیتیں محدود کیں۔

امریکی صدر نے ایران پر حملوں کی شدت میں اضافہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم نے ابھی ان پر حملہ اتنی شدت سے نہیں کیا، بڑا حملہ تو ابھی آنے والا ہے۔ جہاں تک جانا پڑا ہم جائیں گے۔ ضرورت پڑنے پر زمینی فوج بھی بھیجی جا سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی میزائل صلاحیت تباہ کرنا پہلی ترجیح ہے، ایران کے انچاس سینئر رہنما ہلاک کردیے، موجودہ کارروائیوں میں چار سے پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں، لیکن امریکی فوج کے پاس اس سے زیادہ وقت تک جنگ لڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے ایران پر بڑے اور طویل عرصے تک اثر انداز ہونے والے حملوں کا واضح اشارہ دیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی امریکی فوج کو ایران میں اتارنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ اس وقت ایران میں امریکی فوج کو نہیں اتارا گیا ہے، تاہم انہوں نے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ قدم کو مسترد کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جہاں تک جانا پڑا جائے گا، لیکن غیر دانشمندانہ اقدام نہیں کیا جائے گا۔

ایران پر حملے کے بعد کشیدگی: پاکستانی طلبہ اور شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی جاری

حکومت نے تفتان سے سیکڑوں طلبہ کو بہ حفاظت کوئٹہ پہنچا دیا۔
اپ ڈیٹ 02 مارچ 2026 09:50pm
فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایران پر حملے کے بعد پاکستانی طلبہ اور شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کا عمل جاری ہے۔ حکومت پاکستان اور پاک فوج نے ایران سے تفتان کے ذریعے سیکڑوں طلبہ کو محفوظ طریقے سے کوئٹہ پہنچا دیا۔

یکم اور 2 مارچ تک مجموعی طور پر 183 طلبہ پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ 2 مارچ کو 62 طلبہ کو کوئٹہ روانہ کیا گیا، جن میں 42 مرد اور 20 خواتین شامل تھیں، جب کہ اسی روز مزید 121 طلبہ وطن واپس آئے، جن میں 41 مرد اور 80 خواتین شامل ہیں۔

واپس لائے گئے طلبہ میں سے 132 کا تعلق پنجاب، 22 کا خیبرپختون خوا، 15 کا سندھ ، 10 کا گلگت بلتستان، 3 کا آزاد کشمیر اور ایک طالِ علم کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

طلبہ ایران کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم تھے، جن میں تہران میڈیکل کالج، اصفہان میڈیکل کالج، زنجان میڈیکل کالج اور یزد میڈیکل کالج شامل ہیں۔

وطن واپسی کے بعد طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ نے حکومت پاکستان اور پاک فوج کے بروقت اور مؤثر اقدامات کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

یہ عمل حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات جاری رہیں گے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں

خامنہ ای کی اہلیہ بھی اسی مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں زخمی ہوئی تھیں جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے تھے۔
شائع 02 مارچ 2026 07:19pm

ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اہلیہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا کہ وہ اسی مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں زخمی ہوئی تھیں جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے تھے۔

ایرانی ریاستی میڈیا کے مطابق 86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای اتوار کی صبح امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں مارے گئے تھے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کئی دہائیوں تک ایران کے سب سے طاقتور رہنما رہے۔ انہوں نے ایران میں مذہبی نظام حکومت کو مضبوط کیا اور ملک کو خطے کی ایک اہم طاقت بنانے کی کوشش کی۔

ان کے دور میں ایران کا جوہری پروگرام عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا اور اسی معاملے پر اسرائیل اور امریکا کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ان حملوں میں سپریم لیڈر کے بیٹے، بیٹی، داماد، بہو اور نواسے بھی مارے گئے ہیں۔