تیسری عالمی جنگ کا خطرہ؛ کون سا ملک کس وجہ سے محفوظ رہ سکتا ہے؟
دنیا اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہے۔ امریکا اوراسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ایران اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے وحشیانہ اور تابڑتوڑ حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں پر جوابی میزائل و ڈرون حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری مسلسل گولہ باری نے اس آگ کو سرحدوں سے پار پھیلا دیا ہے۔
اسی دوران برطانیہ کی جانب سے امریکہ کو فوجی سہولت دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ جس سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ دنیا ”تیسری عالمی جنگ“ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ایسی صورتحال میں ہر ذہن میں یہ سوال ہے کہ کیا دنیا میں اب بھی کچھ ایسے ممالک موجود ہیں جو اس تباہی سے محفوظ رہ سکیں گے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر بڑی طاقتیں براہِ راست آمنے سامنے آگئیں تو نقصان پوری دنیا کو ہو سکتا ہے۔ لیکن کچھ ممالک ایسے ہیں جو اپنے محلِ وقوع اور دفاعی پالیسیوں کی وجہ سے نسبتاً محفوظ رہ سکتے ہیں۔
کسی بھی ملک کا ”محفوظ“ ہونا محض اس کی فوجی طاقت پر منحصر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع، خوراک و توانائی میں خود کفالت اور سیاسی غیر جانبداری وہ بنیادی عوامل ہیں جو اسے عالمی تباہی کے اثرات سے بچا سکتے ہیں۔
وہ ممالک جو محفوظ سمجھے جاتے ہیں
سوئٹزر لینڈ
یورپ کے قلب میں واقع ہونے کے باوجود سوئٹزرلینڈ اپنی طویل مدتی غیر جانبدار پالیسی کی وجہ سے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اس ملک نے اپنی پوری آبادی کے لیے زیرِ زمین ایٹمی پناہ گاہیں تعمیر کر رکھی ہیں اور اس کا پہاڑی سلسلہ اسے کسی بھی زمینی حملے کے خلاف قدرتی ڈھال فراہم کرتا ہے۔
آئس لینڈ اور نیوزی لینڈ
دنیا کے جغرافیائی اور سیاسی حالات کا جائزہ لینے والے ماہرین کے مطابق، اگر تیسری عالمی جنگ چھڑتی ہے تو آئس لینڈ اور نیوزی لینڈ کو محفوظ ترین مقامات میں شمار کیا جائے گا۔
آئس لینڈ اپنے جغرافیائی محل وقوع اور کسی بھی بڑے فوجی اتحاد سے دوری کی وجہ سے حملوں سے بچا رہ سکتا ہے، جبکہ وہاں کی وافر جیو تھرمل توانائی اسے توانائی کے عالمی بحران سے بھی محفوظ رکھے گی۔
دوسری جانب، نیوزی لینڈ جنوبی نصف کرہ میں واقع ہونے کی وجہ سے ایٹمی جنگ کے بعد پیدا ہونے والی تابکاری اور ”نیوکلیئر ونٹر“ کے اثرات سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہاں کی وسیع زراعتی زمینیں اور کم آبادی اسے خوراک کے معاملے میں خود کفیل بناتی ہیں، جو کہ جنگی حالات میں بقا کے لیے سب سے اہم عنصر ہے۔
آسٹریلیا
جہاں تک آسٹریلیا کا تعلق ہے، یہ ملک اپنے وسیع رقبے اور وافر قدرتی وسائل کی وجہ سے جنگی حالات میں بہت مضبوط پوزیشن رکھتا ہے۔
آسٹریلیا میں خوراک اور ایندھن کے اتنے ذخائر موجود ہیں کہ وہ بیرونی دنیا سے کٹ کر بھی طویل عرصے تک اپنے شہریوں کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ یہاں کوئلے اور معدنیات کے بھی وسیع ذخائر ہیں، جو جنگ کے دوران توانائی کی کمی نہیں ہونے دیتے۔
گرین لینڈ
جنگ کے ممکنہ خطوں سے کافی فاصلے پر واقع ہونے کی وجہ سے گرین لینڈ نسبتاً محفوظ ہے اور اس کی سیاسی غیر جانبداری اسے کسی بھی حملے کے لیے مشکل ہدف بناتی ہے۔
بھوٹان
ایشیا میں واقع بھوٹان اپنی بلند و بالا ہمالیائی چوٹیوں اور عالمی سیاست سے لاتعلقی کی وجہ سے ایک محفوظ گوشہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بھوٹان نے ہمیشہ خود کو بڑی طاقتوں کے تنازعات سے دور رکھا ہے اور اس کا مشکل ترین پہاڑی راستہ کسی بھی بیرونی فوج کے لیے یہاں تک پہنچنا تقریباً ناممکن بنا دیتا ہے۔
اگرچہ عالمی جنگ کا امکان سب کے لیے خطرناک ہوگا، لیکن کچھ ممالک جغرافیائی فاصلے اور غیر جانبدار پالیسی کی وجہ سے نسبتاً کم متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ کشیدگی کم ہو اور سفارتی کوششیں کامیاب ہوں تاکہ دنیا کسی بڑی تباہی سے بچ سکے۔










