پینٹاگون معاہدے پر اختلاف، اوپن اے آئی کے اہم عہدے دار نے استعفیٰ دیا
معروف ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کی کنزیومر ہارڈ ویئر کے شعبوں کی سربراہ کیٹلن کیلینوسکی نے کمپنی اور امریکی محکمہ دفاع کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے پینٹاگون کے خفیہ کلاؤڈ نیٹ ورکس پر اپنی اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے فیصلے سے پہلے مناسب غور و فکر نہیں کیا۔
رائٹرز کے مطابق کیٹلن کیلینوسکی نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں اعلان کیا کہ وہ اوپن اے آئی سے مستعفی ہوچکی ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت قومی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن امریکی شہریوں کی عدالتی نگرانی کے بغیر نگرانی اور انسانی اجازت کے بغیر مہلک خودکار نظام جیسے معاملات ایسی سرحدیں ہیں جن پر زیادہ غور و فکر ہونا چاہیے تھا۔
کیلینوسکی کا کہنا تھا کہ پینٹاگون کے ساتھ معاہدے کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب اس حوالے سے واضح حفاظتی اصول طے نہیں کیے گئے تھے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی نے معاہدے کے ایک دن بعد وضاحت کی تھی کہ اس میں اضافی حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کے استعمال کو محفوظ رکھا جا سکے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی واضح حدود موجود ہیں اور اس کی ٹیکنالوجی کو نہ تو امریکا کے اندر نگرانی اور نہ ہی خودکار ہتھیاروں کے نظام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اوپن اے آئی نے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی سمجھتی ہے کہ ان معاملات پر لوگوں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ اس موضوع پر اپنے ملازمین، حکومت، سول سوسائٹی اور دنیا بھر کی کمیونٹیز کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گی۔
کیٹلن کیلینووسکی نے 2024 میں اوپن اے آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس سے پہلے وہ میٹا پلیٹ فارمز میں آگمینٹڈ ریئلٹی ہارڈویئر ڈویلپمنٹ کی قیادت کر چکی تھیں۔
















