فہد مصطفیٰ کا تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب، عتیقہ اوڈھو کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا
پاکستانی اداکار اور میزبان فہد مصطفٰی حالیہ دنوں ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ وہ ٹیلی ویژن، فلم اور گیم شو کی میزبانی کی وجہ سے ناظرین میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔
فہد مصطفیٰ اکثر سوشل میڈیا پر اپنے اندازِ گفتگو اور رویے کی وجہ سے بھی زیرِ بحث رہتے ہیں۔ بعض صارفین انہیں مغرور قرار دیتے ہیں جبکہ ان کے مداح اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے۔
حال ہی میں فہد مصطفیٰ اپنی آنے والی فلم کی تشہیر کے سلسلے میں صحافی ملیحہ رحمان کے یوٹیوب شو میں شریک ہوئے۔
انٹرویو میں فہد نے نہ صرف خود پر ہونے والی تنقید کا جواب دیا بلکہ سینیئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو پر طنز کے نشتر بھی چلا دیے۔
اداکار کا کہنا تھا کہ وہ خود کو مغرور نہیں سمجھتے بلکہ وہ صرف اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کہاں کھل کر بات کرنی ہے اور کہاں خاموش رہنا بہتر ہے۔ ان کے مطابق اگر کچھ لوگ اس رویے کو غرور سمجھتے ہیں تو یہ ان کی اپنی رائے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے اندر یہ کوالٹی موجود ہے کہ میں کسی کو دیکھ کر فورا بھانپ لیتا ہوں کہ اس سے بات کرنی چاہیے یا نہیں اگر نہیں تو میں ریزرو ہوجاتا ہوں اور اس شخص سے فاصلہ اختیار کرلیتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات وہ محفلوں یا تقریبات میں زیادہ گھلنے ملنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ عوامی شناخت کی وجہ سے عام ملاقاتیں بھی مشکل ہو جاتی ہیں۔
ان کے بقول ہر وقت کیمرے کے لیے تیار رہنا آسان نہیں ہوتا اور اکثر لوگ ستاروں کی تصاویر ایسے انداز میں لے لیتے ہیں جو انہیں پسند نہیں آتیں۔
انٹرویو کے دوران فہد مصطفیٰ نے ان فنکاروں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جو ٹاک شوز میں ان کا تذکرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر عتیقہ اوڈھو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا، ’میں غلطیاں نہیں کرتا، بلکہ میرے آس پاس کے لوگ مجھ سے زیادہ غلطیاں کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ دوسرے فنکار اکثر ان کا ذکر اپنے انٹرویوز میں کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں دنیا اپنی تعریف سننے کے لیے تڑپتے ہیں، وہیں فہد اس سے کتراتے ہیں۔
فہد نے انکشاف کیا کہ انہیں زیادہ تعریف سے ڈر لگتا ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ جب لوگ حد سے زیادہ تعریف کرنے لگیں، تو سمجھ جائیں کہ اب وہ آپ کو نیچے گرانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
















