عراق میں گرنے والے امریکی طیارے میں عملے کے 4 افراد ہلاک، سینٹ کام کی تصدیق

طیارہ آگ یا فرینڈلی فائر کی وجہ سے نہیں گرا، واقعے کی تفتیش جاری ہے: سینٹ کام
اپ ڈیٹ 13 مارچ 2026 05:10pm

ایران کے خلاف جاری فوجی کشیدگی کے دوران عراق میں امریکی فوجی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واقعے میں عملے کے چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 12 مارچ کو ایندھن بھرنے والا امریکی طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ ہوگیا ہے۔

سینٹ کام نے طیارے میں سوار عملے کے چھ ارکان میں سے چار کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارہ گرنے کی وجہ آگ یا فرینڈلی فائر نہیں ہے، واقعے کی تفتیش جاری ہے۔

اس سے قبل سیںٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ ان کا ایک طیارہ مغربی عراق میں گرا ہے جب کہ اس کے ساتھ پرواز کرنے والا دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

سینٹ کام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی افواج خطے میں جاری فوجی کارروائی آپریشن ایپک فیوری کے دوران سرگرم تھیں۔

امریکی فضائیہ نے جمعرات کو اسی طیارے کی آپریشن ایپک فیوری میں ایک مشن کے دوران ایندھن بھرنے کی ویڈیو بھی جاری کی تھی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں ہوسکیں تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں سوار عملے کے حوالے سے مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں جبکہ امدادی اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں۔

ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ہے۔

اپنے بیان میں ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے مزید کہا کہ طیارے میں موجود تمام اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔