امریکی پابندیوں پر عمل کرنے والے ممالک آبنائے ہرمز میں مشکلات کا سامنا کریں گے: ایران

’’دشمن اپنے اہداف حاصل نہ کر سکا، داخلی اتحاد مزید مضبوط ہوا‘‘ بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا
اپ ڈیٹ 10 مئ 2026 01:10pm

ایران نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کو نافذ کرے گا اسے خلیج کے اہم ترین بحری راستے آبنائے ہرمزسے گزرنے میں ’’مشکلات‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایرانی سرکاری ایجنسی تسنیم کے مطابق فوج کے بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران دشمن اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل نہیں کر سکا اور ایران کے سیاسی نظام میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے برعکس ملک کے اندر اتحاد اور یکجہتی مزید مضبوط ہوئی ہے، جس کا اظہار آج بھی عوام کی بڑی تعداد میں سڑکوں پر موجودگی سے ہوتا ہے۔

محمد اکرمی نیا مطابق دشمن یہ سمجھ گیا ہے کہ وہ اس مزاحمت کو توڑنے میں ناکام رہا، جس کے بعد اسے بالآخر جنگ بندی قبول کرنا پڑی۔

بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے دوران ایران نے اپنی فوجی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا ہے، اہداف کے ڈیٹا بینک کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے اور دفاعی و حملہ آور پوزیشنز کو بہتر بنایا گیا ہے۔

ایرانی بیان میں واضح طور پر اشارہ دیا گیا ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی پابندیوں یا دباؤ کی صورت میں ایران اپنے اہم بحری راستے پر ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔