امریکا کے لیے مخبری کے الزام میں 4 افراد گرفتار، ایک اسرائیلی جاسوس کو سزائے موت

گرفتار جاسوس سیکیورٹی فورسز سے متعلق معلومات دشمن کو فراہم کر رہے تھے: ایران
شائع 18 مارچ 2026 03:09pm

ایران کی وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں بڑے سیکیورٹی آپریشن کے دوران امریکا کے لیے مخبری اور تخریب کاری کے الزام میں درجنوں افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے مبینہ تعلق پر ایک ایرانی شہری کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزارتِ داخلہ نے ملک گیر آپریشن کے دوران ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے اور تخریب کاری کی منصوبہ بندی کے الزام میں ’بادشاہت پسند گروہ‘ کے 111 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق 26 صوبوں میں ان افراد کو راتوں رات کارروائی کرتے ہوئے شناخت کرکے گرفتار کیا گیا اور ان سے بڑی مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اسکے علاوہ صوبہ ہمدان اور مغربی آذربائیجان سے چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر امریکا کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور حساس تنصیبات سے متعلق معلومات دشمن کو فراہم کر رہے تھے اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ مل کر ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

دوسری جانب عدلیہ نے ایرانی شہری کوروش کیوانی کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دینے کی تصدیق کردی ہے۔

حکام کے مطابق کوروش کیوانی کو گزشتہ برس جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس تنظیم نے گرفتار کیا تھا۔

اس پر ملک کے حساس سیکیورٹی مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز اسرائیل کو فراہم کرنے کا الزام تھا۔ گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے ایک پیڈرا وین، موٹر سائیکل اور جدید جاسوسی آلات بھی برآمد ہوئے تھے۔

تحقیقات کے مطابق ملزم کو 2023 میں سویڈن میں ’بین‘ نامی موساد ایجنٹ نے بھرتی کیا تھا، جو فارسی زبان بول سکتا تھا۔ بعد ازاں کوروش کیوانی نے یورپ کے مختلف ممالک کا سفر کیا، جہاں اس نے اپنے ہینڈلر سے رابطے مضبوط کیے اور بڑی رقوم حاصل کیں۔

ملزم نے عدالتی بیان میں بتایا کہ وہ دو ہفتوں کے لیے تل ابیب گیا تھا، جہاں اسے ایران کے اہم مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی ہدایات دی گئیں۔ عدالت نے ملزم کے اعترافات، ای میلز اور دیگر شواہد، اور اس کے قبضے سے ملنے والے جدید جاسوسی آلات کی بنیاد پر اسے سزائے موت سنائی تھی۔