اسرائیل کا تہران حملے میں ایرانی وزیرِ اسماعیل خطیب کی شہادت کا دعویٰ
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب گزشتہ روز تہران پر کیے گئے حملوں میں شہید ہو گئے ہیں تاہم ایران کی جانب سے تاحال اس حوالے سے تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق اسرائیل نے ایران کے وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کو نشانہ بنایا ہے۔ بدھ کے روز سامنے آنے والے اس بیان پر ایرانی حکام نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ایران اور حزب اللہ، دونوں محاذوں پر جنگ جاری رہے گی اور مزید ’سرپرائزز‘ دیکھنے کو ملیں گے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع نے مشترکہ طور پر فوج کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ مکمل انٹیلی جنس اور آپریشنل معلومات کی بنا پر کسی بھی اعلیٰ ایرانی عہدیدار کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ اس کے لیے کسی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا کہ اسرائیلی فوج آئندہ بھی ایسے اہداف کو نشانہ بناتی رہے گی اور انہیں تلاش کرکے ختم کرنے کا عمل جاری رہے گا۔
اس سے قبل منگل کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہو گئے تھے۔
اگر اسماعیل خطیب کی شہادت کی خبر درست ثابت ہوئی تو یہ دو روز میں شہید ہونے والے ایرانی اعلیٰ قیادت کے تیسرے رہنما ہوں گے۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے علی لاریجانی کی شہادت سے متعلق کہا کہ امریکا اور اسرائیل ابھی تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ ایران کا نظامِ حکومت کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ رہنماؤں کی شہادت کے باوجود ایران آگے بڑھے گا۔












