علی لاریجانی کی جگہ محمد باقر ذوالقدر ایران کے نئے سیکیورٹی چیف مقرر
محمد باقر ذوالقدر ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری مقرر ہو گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہیں علی لاریجانی کی جگہ تعینات کیا گیا ہے۔ وہ پاسدارانِ انقلاب (اسلامی انقلابی گارڈ کور) کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں اور اسٹریٹجک حلقوں میں انہیں ایک سخت گیر اور بااثر شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔
قطر کے خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران نے اپنی اعلیٰ ترین سیکیورٹی باڈی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے لیے نئے سیکریٹری کا تقرر کر دیا ہے۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق محمد باقر ذوالقدر کو اس اہم عہدے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
یہ تقرری ایک اہم سیکیورٹی بحران کے بعد سامنے آئی ہے، جب کونسل کے سابق سیکریٹری علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں میں شہید ہوئے تھے۔
علی لاریجانی ایران کی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور ماضی میں پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات کے سربراہ بھی رہ چکے تھے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس نے علی لاریجانی کو ٹریس کرنے کے لیے بھرپور وسائل استعمال کیے تاہم وہ اسرائیلی نگرانی سے بچنے کے لیے مسلسل اپنا مقام تبدیل کرتے رہے اور آخرکار 17 اور 18 مارچ کی درمیانی شب انہیں ٹریس کر لیا گیا تھا۔
محمد باقر ذوالقدر کون ہیں؟
محمد باقر ذوالقدر ایران کے ایک سینئر سیاسی اور عسکری رہنما ہیں، جو 1954 میں ایران کے شہر فسا میں پیدا ہوئے۔ وہ طویل عرصے تک اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) سے وابستہ رہے اور بعد میں اہم سرکاری و عدالتی عہدوں پر بھی فائز رہے۔
ذوالقدر نے 1979 کے ایرانی انقلاب سے قبل ایک خفیہ انقلابی گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ انقلاب کے بعد وہ اسلامی انقلابی گارڈ کور کے قیام میں شامل ہوئے۔ انہوں نے ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا اور فوجی کمان میں تیزی سے ترقی کی۔
محمد باقر آئی آر جی سی میں چیف آف اسٹاف اور بعد ازاں ڈپٹی کمانڈر کے عہدوں تک پہنچے۔ بعد میں وہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں نائب وزیر داخلہ بھی رہے، جہاں وہ سیکیورٹی امور کے ذمہ دار تھے۔
فوجی خدمات کے بعد انہوں نے عدلیہ میں اہم کردار ادا کیا اور چیف جسٹس صادق لاریجانی کے تحت اسٹریٹجک امور کے نائب کے طور پر کام کیا۔ وہ قدامت پسند سیاسی دھڑے سے وابستہ رہے اور 2017 کے انتخابات میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔
ذوالقدر اس وقت مفادِ عامہ کے مشاورتی کونسل کے سیکریٹری ہیں، جو ایران کے سپریم لیڈر کو مشورے دینے اور اہم آئینی معاملات میں ثالثی کا کردار ادا کرتی ہے۔
محمد باقر ذوالقدر کا کیریئر ایران کے سیکیورٹی اداروں اور حکومتی ڈھانچے کے درمیان گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے اور وہ ملک کے بااثر فیصلہ سازوں میں شمار ہوتے ہیں۔












