ایران کی آبنائے ہرمز پر فیس عائد کرنے کی تیاری، امریکا کی نئی ’نفسیاتی چال‘

تیل کی عالمی قیمتوں کو انحصار چین پر آگیا
شائع 26 مارچ 2026 09:07am

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق، پارلیمنٹ میں ایک قانونی مسودہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں اور آئل ٹینکرز سے فیس وصول کی جائے گی۔

ایرانی پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹی کے سربراہ کے مطابق یہ اقدام اس بنیاد پر کیا جا رہا ہے کہ ایران اس بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا ہے، اس لیے دیگر عالمی تجارتی راہداریوں کی طرح یہاں بھی فیس لینا ایک ”فطری عمل“ ہے۔

ایران پہلے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کے اختیار کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے، اور یہ مطالبہ اس کی جنگ بندی کی شرائط میں بھی شامل ہے۔

دوسری جانب اس پیش رفت کے عالمی معیشت پر اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی اس سے متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماہر معاشیات ولیم لی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسٹریٹیجک ذخائر سے 172 ملین بیرل تیل جاری کرنا ایک ”نفسیاتی چال“ ہے تاکہ مارکیٹ کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ تیل کی سپلائی برقرار رہے گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ خلیج کے علاقے سے روزانہ 10 سے 15 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا خود تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے وہ کسی حد تک محفوظ ہے، لیکن عالمی منڈی میں خلا کو مکمل طور پر پُر کرنا آسان نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی ذخائر کے استعمال سے وقتی طور پر قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں سپلائی کی کمی برقرار رہ سکتی ہے۔ ولیم لی کے مطابق اصل مسئلہ جنگ کا دورانیہ ہے، اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دیگر بڑی معیشتیں بھی کردار ادا کریں، خاص طور پر چین، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ تاہم اب تک چین کی جانب سے اپنے ذخائر استعمال کرنے کے کوئی واضح اشارے نہیں ملے۔

ادھر عالمی منڈی میں یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا نئی پابندیاں تیل کی ترسیل کو مزید متاثر کر سکتی ہیں۔

یہ بحری راستہ دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے گزرنے والی سپلائی میں کسی بھی خلل کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔