مچھر آپ کو ہی کیوں کاٹتے ہیں؟ وہ وجوہات جو آپ کو پسندیدہ ڈنر بناتی ہیں

مچھروں کے حملے کے پیچھے کارفرما عوامل اور حالیہ سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟
اپ ڈیٹ 26 مارچ 2026 12:40pm

اگر آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مچھر سب کو چھوڑ کر صرف آپ ہی کو نشانہ بناتے ہیں، تو یہ آپ کا وہم نہیں بلکہ درست ہے، اس کے پیچھے ٹھوس سائنسی وجوہات کارفرما ہیں۔ سائنسدانوں نے ایک طویل تحقیق کے بعد اس معمے کو حل کر لیا ہے کہ مچھر اپنے شکار کا انتخاب کس طرح کرتے ہیں اور کیوں کچھ لوگ ان کے لیے ”مقناطیس“ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق مچھر کسی ایک خاص اشارے پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف ماحولیاتی عوامل کے تحت ردعمل دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھروں کا گروہ یا جھنڈ کسی لیڈر کی پیروی نہیں کرتا، بلکہ ہر مچھر آزادانہ طور پر اپنے حواس کا استعمال کرتے ہوئے فیصلے کرتا ہے۔ وہ کسی ایک شخص پر اس لیے اکٹھے ہوتے ہیں کیونکہ وہاں موجود کشش کے محرکات ان سب کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔

اس عمل میں سب سے بنیادی کردار کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بصری علامات کا ہے۔ یاد رہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ انسانی سانس کے ذریعے بھی خارج ہوتی ہے اور فضا یا کسی خاص ایریا میں بھی موجود ہوسکتی ہے یا اس کے مختلف عوامل بھی ہوسکتے ہیں۔

جب مچھر کو فضا میں گیس کی بو آتی ہے، تو وہ فوری طور پر متحرک ہو جاتا ہے اور گہرے رنگوں یا حرکت کرتی ہوئی چیزوں کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔

سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بصری اشارے یعنی رنگ مچھروں کو ہدف کی طرف کھینچنے میں سب سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتے ہیں، جس کے بعد وہ اپنے شکار کے قریب پہنچ کر دیگر عوامل کا جائزہ لیتے ہیں۔ اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ مچھر ڈارک رنگ یا کالے رنگ کی طرف زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

انسانوں کے درمیان مچھروں کی پسندیدگی کا فرق دراصل ان کے پسینے اور جلد کی کیمیا میں چھپا ہے۔

ہمارے پسینے میں موجود مختلف کیمیکلز اور خاص طور پر کاربو آکسیلک ایسڈزکی مخصوص مقدار بعض افراد کو مچھروں کے لیے دوسروں کی نسبت زیادہ پرکشش بنا دیتی ہے۔

ہر انسان کے جسم کی بو اور اس میں موجود مرکبات کی شرح مختلف ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک ہی کمرے میں موجود دو افراد میں سے مچھر کسی ایک کا انتخاب کر لیتے ہیں۔

اس انتخاب میں انسانی جسم سے نکلنے والی حرارت اور نمی بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے جو مچھر کو عین ہدف پر بیٹھنے میں مدد دیتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مچھروں کی مختلف اقسام کی پسند بھی مختلف ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص ملیریا پھیلانے والے مچھروں کے لیے بہت زیادہ پرکشش ہے، تو ممکن ہے کہ ڈینگی پھیلانے والے مچھر اسے زیادہ اہمیت نہ دیں۔

یہ سب مچھروں کے انٹینا پر موجود مخصوص ریسیپٹرز کا کمال ہے جو پسینے میں موجود مختلف کیمیکلز کو پہچانتے ہیں۔

جارجیا ٹیک کے محقق کرسٹوفر ژو اور ان کی ٹیم نے تین مختلف تجربات کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ مچھر، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بصری اشاروں (Visual Cues) کو آپس میں کیسے جوڑتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مچھر کسی ”چھوٹے روبوٹ“ کی طرح کام کرتے ہیں، جو اپنے ماحول سے ملنے والے سگنلز کے مطابق پہلے سے طے شدہ اصولوں کے تحت پرواز کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق کے نتائج سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں مچھروں کے ان اصولوں کو سمجھنے سے ملیریا اور زیکا جیسی مہلک بیماریوں کے خلاف زیادہ مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں گے، جو ہر سال دنیا بھر میں سات لاکھ سے زائد انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں۔