فالوورز بڑھانے کے لیے اغوا کا ڈرامہ رچانے والی انفلوئنسر سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئی

اغوا کاروں نے ڈرامے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے باقاعدہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
شائع 26 مارچ 2026 12:51pm

سوشل میڈیا پر شہرت کی تڑپ انسان کو کس حد تک لے جا سکتی ہے، اس کی تازہ مثال برازیل میں سامنے آئی ہے۔ 27 سالہ انفلوئنسر مونیکی فراگا کو پولیس نے ایک ایسے ڈرامائی چھاپے میں گرفتار کیا ہے جس نے انٹرنیٹ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے میڈیا کی توجہ حاصل کرنے اور فالوورز کی تعداد بڑھانے کے لیے اپنے ہی اغوا کا ڈھونگ رچایا۔

یہ گرفتاری اس واقعے کے تقریباً ایک سال بعد عمل میں آئی، جب فراگا نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اور ان کے شوہر لوکاس کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

گزشتہ سال اپریل میں مونیکی نے اپنے 48 ہزار سے زائد فالوورز کو ایک ویڈیو کے ذریعے بتایا تھا کہ وہ اور ان کا شوہر گھر کے باہر اغوا کر لیے گئے۔ انہیں گھنے جنگلات میں لے جا کر گھنٹوں محبوس رکھا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

فراگا نے دعویٰ کیا کہ اغوا کاروں نے 1 لاکھ برازیلین رئیس کا تاوان مانگا، اور کچھ رقم ادا کر دی گئی۔ ویڈیو میں فراگا نے آنسو بہاتے ہوئے کہا تھا کہ، ’میں نہیں جانتی تھی کہ واپس لوٹ پاؤں گی یا نہیں۔ میں صرف اپنے بچوں کے بارے میں سوچ رہی تھی۔‘

تاہم، پولیس نے تفتیش کے بعد یہ واضح کیا کہ پورا اغوا جعلی تھا۔ تفتیشی افسر کلے اینڈرسن کے مطابق، مونیکی نے نہ صرف اس اغوا کی منصوبہ بندی میں حصہ لیا بلکہ وہ مفرور ملزمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں بھی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس پورے ڈرامے میں مونیکی کے علاوہ تین مزید افراد شامل تھے۔

اس کہانی کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ مونیکی کے شوہر، لوکاس، اس سازش سے بالکل بے خبر تھے۔ اغوا کاروں نے ڈرامے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے لوکاس کو باقاعدہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ان سے لوٹ مار بھی کی۔ لوکاس اب تک یہی سمجھتے رہے کہ وہ ایک حقیقی مجرمانہ کارروائی کا شکار ہوئے ہیں۔


مونیکی فراگا کے وکلاء نے ان کے چھوٹے بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں گھر پر نظر بند کرنے کی درخواست کی ہے، تاہم وہ اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔

پولیس کے مطابق، ایک شریک ملزم پہلے سے ہی کسی اور کیس میں جیل میں ہے، ایک فوت ہو چکا ہے اور تیسرا جس نے مبینہ طور پر تاوان وصول کیا تھا، اس کی جائیداد کی چھان بین کی گئی ہے۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر بحث کا موضوع بن گیا۔ ماہرین نے کہا کہ اس قسم کے ڈرامے نوجوان انفلوئنسرز کے لیے خطرناک مثالیں قائم کر سکتے ہیں اور سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی حرکات کو فروغ دیتے ہیں۔