ایرانی ہیکرز نے ایف بی آئی چیف کی خفیہ تصاویر اور دستاویزات انٹرنیٹ پر ڈال دیں

ہیکرز نے دعویٰ کیا کہ کاش پٹیل کامیابی سے ہیک کیے جانے والے افراد کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں
شائع 28 مارچ 2026 10:06am

ایران سے منسلک ہیکرز نے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ کی حساس معلومات اور تصاویر انٹرنیٹ پر جاری کر دیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہیکرز اور ایف بی آئی نے جمعہ کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ کاش پٹیل کے ذاتی ای میل ان باکس کو نشانہ بنایا گیا۔ ہیکر گروپ ”ہندالہ ہیک ٹیم“ نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا کہ پٹیل اب کامیابی سے ہیک کیے جانے والے افراد کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔

ہیکرز کی جانب سے کاش پٹیل کی متعدد ذاتی تصاویر بھی جاری کی گئیں، جن میں وہ سگار پیتے، ایک قدیم گاڑی میں سوار، اور آئینے کے سامنے رم کی بوتل کے ساتھ سیلفی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ 300 سے زائد ای میلز کا نمونہ بھی شائع کیا گیا، جن میں 2010 سے 2019 کے درمیان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ خط و کتابت شامل بتائی جاتی ہے۔

ایف بی آئی کے ترجمان بین ولیمسن نے بیان میں کہا کہ ادارے نے اس سرگرمی سے جڑے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے ہیں۔ ان کے مطابق لیک ہونے والا ڈیٹا پرانی نوعیت کا ہے اور اس میں کوئی سرکاری معلومات شامل نہیں۔

۔

ہندالہ ہیک ٹیم نامی یہ ہیکر گروپ خود کو فلسطین نواز سائبر رضاکار ظاہر کرتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ ایرانی حکومتی سائبر انٹیلی جنس یونٹس سے منسلک مختلف گروپس میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ اس گروپ نے 11 مارچ کو امریکی ریاست مشی گن میں قائم طبی آلات بنانے والی کمپنی اسٹرائیکر کو بھی ہیک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ کمپنی کا بڑا ڈیٹا حذف کر دیا گیا ہے۔

جمعرات کے روز ہندالہ نے دفاعی کمپنی لوک ہیڈ مارٹن کے مشرق وسطیٰ میں تعینات درجنوں ملازمین کا ذاتی ڈیٹا جاری کرنے کا بھی دعویٰ کیا، جس پر کمپنی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ صورتحال سے آگاہ ہے اور سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات موجود ہیں۔

اسرائیلی سائبر سکیورٹی کمپنی چیک پوائنٹ کے چیف آف اسٹاف گل میسنگ کے مطابق یہ ہیکنگ اور ڈیٹا لیک آپریشن امریکی حکام کو شرمندہ کرنے اور انہیں غیر محفوظ محسوس کرانے کی ایرانی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران سے منسلک ہیکرز نے گزشتہ ماہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ابتدائی طور پر خاموشی اختیار کی، تاہم اب تنازع طول پکڑنے کے ساتھ وہ اپنی سائبر کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس جائزے کے مطابق ایران اور اس کے اتحادی، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں امریکی ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے خلاف نچلی سطح کی سائبر کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران سے منسلک ہیکرز کے پاس مزید ای میلز بھی موجود ہو سکتی ہیں۔ گزشتہ سال ”رابرٹ“ کے نام سے کام کرنے والے ایک اور گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی افراد سے حاصل کردہ 100 گیگا بائٹ ڈیٹا منظر عام پر لانے پر غور کر رہا ہے، تاہم اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔