ہرمز سے حیفا: سعودی عرب کے لیے امریکی چال

۔
اپ ڈیٹ 28 مارچ 2026 07:24pm

عالمی منظر نامے پر ابھرتی ہوئی حالیہ کشیدگی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کے جارحانہ اقدامات کو محض ایک علاقائی تنازع سمجھنا میرے خیال میں سیاسی نادانی ہوگی کیوں کہ سطحی نظر رکھنے والے اسے ایران کی طاقت یا امریکہ کی پسپائی سے تعبیر کر رہے ہیں لیکن اگر اسے گرینڈ اسٹرٹیجی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ ایک وسیع تر گریٹ گیم کا حصہ ہے۔

ایران کے حوالے سے امریکی صدر کے بیانات اور فیصلوں سے واضح طورپر ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے کوئی گلی محلے کا معمولی شخص ہو لیکن وہ بہرحال اس وقت دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کا کمانڈر ان چیف ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک فریب ہے  کیوں کہ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کی پالیسیاں دہائیوں پر محیط ہوتی ہیں اور ان کے پیچھے وہ صیہونی دماغ اور پالیسی ساز ماہرین ہوتے ہیں جو عالمی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کرتے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے بہت اہم ہے جسے کھلوانے کے لیے امریکہ کی جو پھرتیاں جاری ہیں وہ میری رائے میں گمراہ کن پروپیگنڈا ہے اور اصل ہدف سے توجہ ہٹانے کے لیے امریکہ کی پھرتیاں ’اسٹریٹجک دھوکہ دہی‘ ہوسکتی ہیں۔

میری یہ رائے اس بنیاد پر ہے کہ امریکہ اور غیرقانونی صیہونی ریاست کی خارجہ پالیسی اور فوجی حکمتِ عملی  ٹرمپ جیسے بظاہر غیر سنجیدہ نظر آنے والے شخص کے محض جذباتی فیصلوں پر نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط ”تزویراتی گہرائی“ (Strategic Depth) پر مبنی ہوتی ہے۔ ان کے ”ذہین دماغ“ (Think Tanks اور Strategists) ایسے منصوبے بناتے ہیں جن کا اثر 20 سے 50 سال بعد ظاہر ہوتا ہے۔ میں یہاں ماضی کے چند ایسے غیر معمولی منصوبوں اور ان کے پیچھے موجود ناموں کی  بیان کرنا چاہوں گا جس سے میرے خیالات کی کسی حد تک تصدیق ہوسکے گی۔

سن 1970 اور 80 کی دہائی میں برطانوی-امریکی مورخ اور ماہرِ مشرقِ وسطیٰ  اور امریکی انٹیلی جینس، پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کے لیے سب سے بڑے فکری مشیر برنارڈ لیوس  نے  برنارڈ لیوس پلان (The Bernard Lewis Plan) پیش کیا تھا جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سرحدوں (سائیکس-پیکو معاہدہ) کو ختم کر کے اسے لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد لبنان، شام، عراق اور ایران جیسے ممالک کو اندرونی طور پر اتنا کمزور کر دینا کہ وہ غیرقانونی صیہونی ریاست کے لیے خطرہ نہ رہیں۔ آج ہم مشرقِ وسطیٰ میں جو ”فرقہ وارانہ تقسیم“ دیکھ رہے ہیں، وہ اسی نظریے کا شاخسانہ ہے۔

یہاں ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ  کیا ایران غیرقانونی صیہونی ریاست اور امریکہ کی پالیسیوں سمیت ان خطرناک منصوبوں سے آگاہ نہیں یا اسے امریکہ اور غیرقانونی صیہونی ریاست کی ان کارستانیوں کا علم نہیں ؟ یا وہ جان بوجھ کر ان کے جال میں پھنس رہا ہے؟ دشمنوں کے اسکرپٹ  کے عین مطابق عمل کرنا کیا ایران کی اسٹریٹجک نادانی ہے؟ میرے خیال میں اس کا جواب مختصر ہاں اور ناں میں نہیں ہوسکتا۔ اس سوال کو سمجھنے کے لیے اہم پہلووں پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

اگر غیر جانبدار ہوکر دیکھا جائے تو ایران کوئی نادان کھلاڑی نہیں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے پاس ”ہرمز کارڈ“ کے علاوہ کوئی ایسا مؤثر ہتھیار نہیں ہے جو عالمی طاقتوں کو میز پر آنے پر مجبور کر سکے۔

ایران کے لیے آبنائے ہرمز ایک ”بیمہ پالیسی“ (Insurance Policy) کی طرح ہے؛ وہ اسے بند نہیں کرنا چاہتا کیوں کہ اس سے اس کی اپنی معیشت بھی تباہ ہوگی، لیکن وہ اس کی بندش کی دھمکی کو اپنی بقا کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ایران کو ڈر ہے کہ اگر اس نے ہرمز کی بندش کی دھمکی واپس لی، تو اسے عراق یا لیبیا کی طرح براہِ راست فوجی مداخلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی کو اس تناظر میں دیکھنا کہ ایران اپنی انقلابی نفسیات کے تحت یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ خلیج کو دباؤ میں لا کر اپنی طاقت منوا رہا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ان قوتوں کے لیے ”جواز“ (Justification) پیدا کر رہا ہے جو خلیجی ممالک کی معیشت کو ہمیشہ کے لیے غیرقانونی صیہونی ریاست اور مغربی بحیرہ روم کے راستوں سے پیوست کرنا چاہتی ہیں۔ یہ ایک ایسی شطرنج ہے جہاں مہرے اپنی مرضی سے چلتے ہوئے بھی اسی خانے میں پہنچتے ہیں جہاں بساط بچھانے والا انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔

مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ امریکہ نے ایران کی اسی ”بقا کی جنگ“ کو اپنے حق میں موڑ لیا ہے۔ امریکہ نے ایران کو ایک ایسے کردار میں فٹ کر دیا ہے جہاں ایران کا ہر دفاعی اقدام (میزائل تجربات یا ہرمز میں مشقیں) خلیجی ممالک کے لیے ”خوف کا ایندھن“ بن جاتا ہے۔ امریکہ اس خوف کو بطور ”گلو“ (Glue) استعمال کر رہا ہے تاکہ وہ خلیج اور غیرقانونی صیہونی ریاست کے درمیان دہائیوں پرانی نظریاتی خلیج کو پاٹ سکے۔

جب سعودی عرب یا قطر یہ دیکھتے ہیں کہ ایران کے پاس ہرمز کو مفلوج کرنے کی صلاحیت ہے، تو وہ اپنی معیشت کو بچانے کے لیے کسی بھی ایسے متبادل کو قبول کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں  جو ایران کے خوف سے آزاد ہو۔

امریکہ اور غیرقانونی صیہونی ریاست کی کوشش ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند رکھے تاکہ خاص طور پر خلیجی ممالک سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اورعراق کی معیشت کو غیر معمولی جھٹکا دیا جاسکے۔ اس منصوبے کا خاص نشانہ سعودی عرب ہے امریکہ اس حقیقت کا فائدہ اٹھا رہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر قابض ہے۔ وہ سعودی حکومت کو باور کرانا چاہتا ہے کہ ایران آپ کے لیے حقیقی خطرہ ہے سو اب آپ کو متبادل ڈھونڈنا چاہیے۔ اور یہ متبادل کیا ہے؟

متبادل یہ ہے کہ اردن کے راستے پائپ لائنز بچھائی جائیں اور ان پر انحصار کیا جائے، جن کے لیے بہترین راستہ صیہونی ’کیمپ‘ (مقبوضہ علاقہ) تک پہنچنے والی پائپ لائنز ہیں۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے سعودی عرب کوروزانہ دو کروڑ بیرل تیل برآمد کرنے کا اس سے بہترین منصوبہ اور کیا ہوسکتا ہے؟ امریکہ اور غیرقانونی صیہونی ریاست اس وقت جس منصوبے پر کام کر رہے ہیں، اس کا مقصد صرف ایک راستہ بنانا نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے پورے جغرافیائی اور معاشی نظام کو ”الٹ“ دینا ہے۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں موجودگی کا سب سے بڑا جواز خلیجی ممالک کے لیے ”ایران کو  خطرہ  بنا کرپیش کرنا“ ہے۔ اگر خلیجی ممالک (سعودی عرب، یو اے ای) یہ محسوس کریں کہ وہ ایران سے خود نمٹ سکتے ہیں یا چین کی مدد سے صلح کر سکتے ہیں، تو خطے میں امریکی اڈوں کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ حملوں کے ذریعے عدم تحفظ کا احساس دلانا ان ممالک کو دوبارہ امریکی کیمپ میں دھکیلنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے، تاکہ وہ یہ سوچیں کہ ”اگر امریکی اڈے محفوظ نہیں تو ہم اکیلے کیسے بچیں گے؟“

خلیجی ممالک اب اسی لیے ”اسمارٹ گیم“ کھیل رہے ہیں۔ وہ امریکہ کو مکمل چھوڑ بھی نہیں رہے (کیونکہ متبادل نہیں ہے) اور اس پر مکمل بھروسہ بھی نہیں کر رہے، بلکہ ایران کے ساتھ براہِ راست رابطے بڑھا کر اس ”خوف کے کھیل“ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکہ کی ایک دیرینہ حکمتِ عملی رہی ہے کہ خطے میں نہ تو مکمل امن ہو اور نہ ہی ایسی تباہ کن جنگ کہ تیل کی سپلائی مستقل رک جائے۔ چھوٹے موٹے حملے یا ریڈار کی تباہی جیسے واقعات اس ”تناؤ“ کو برقرار رکھتے ہیں جو امریکہ کو خطے کے معاملات میں مداخلت کا اخلاقی اور فوجی جواز فراہم کرتے ہیں۔ تاہم اس تھیوری کے خلاف بھی کچھ دلائل ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ممکن ہے امریکہ اور غیرقانونی صیہونی ریاست جان بوجھ کر اپنی دفاعی کمزوری کا ”تاثر“ دے رہے ہوں تاکہ ایران کو ایک بڑے اور براہِ راست حملے پر اکسایا جا سکے۔ جب تک ایران براہِ راست حملہ نہیں کرتا، امریکہ کو ایران کی ایٹمی تنصیبات یا فوجی ڈھانچے کو مکمل تباہ کرنے کا ”اخلاقی جواز“ نہیں ملتا۔ اگر ایران اپنی پراکسیز(Proxies) کے بجائے خود سامنے آتا ہے، تو امریکہ اسے ”عالمی امن کے لیے خطرہ“ قرار دے کر وہ فیصلہ کن جنگ چھیڑ سکتا ہے جو غیرقانونی صیہونی ریاست کا دہائی سے دیکھا جانے والا خواب ہے۔

یاد رہے کہ عراق پر حملے سے پہلے بھی ”کیمیائی ہتھیاروں“ کا جھوٹ ایک بڑے مقصد (تیل اور علاقائی کنٹرول) کے لیے بولا گیا تھا۔ یہاں بھی ممکن ہے کہ امریکہ اپنے اڈوں یا ریڈاروں کی تباہی کو ”جائز نقصان“ (Collateral Damage) کے طور پر قبول کر رہا ہو تاکہ خلیجی ممالک کو یہ باور کرایا جائے کہ ایران اب ناقابلِ کنٹرول ہو چکا ہے اور اب ”حتمی حل“ (Final Solution) کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔

یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ ایران کے پاس جو میزائل صلاحیت ہے وہ غیر معمولی ہے اور ان کی تعداد اتنی ہے کہ ایران اس جنگ کو مہینوں جاری رکھ سکتا ہے تو ایسی صورتحال میں آبنائے ہرمز کا بند ہونا  طے ہے ۔ میری رائے میں امریکہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بعد جس حکمتِ عملی کو اختیا رکرسکتا ہے وہ کچھ اس طرح ہوسکتی ہے۔

سعودی عرب اس وقت خطے میں سب سے زیادہ تیل کی پیدوار رکھنے والا ملک ہے اس کا تیل مشرقی صوبے (جہاں تیل کے بڑے ذخائر ہیں) سے یورپ تک پہنچنے کیلئے سب سے پہلے خلیج فارس سے گزرنا پڑتا ہے، پھر آبنائے ہرمز سے ہوتے ہوئے بحیرہ عرب اور پھر بحیرہ احمر یا کوہِ قاف کے گرد گھوم کر یورپ جانا پڑتا ہے۔ یہ راستہ ہزاروں بحری میل طویل ہے اور اس میں کئی ”چوک پوائنٹس“ (خطرناک مقامات) آتے ہیں۔ لیکن یہ تیل اگر سعودی عرب کے سرحدی علاقوں سے اردن کے راستے غیرقانونی صیہونی ریاست کی بندرگاہ حیفا تک آئے تو اس کا زمینی فاصلہ صرف 600 سے 800 کلومیٹر کے درمیان بنتا ہے۔ اگر پائپ لائن بچھائی جائے تو تیل چند گھنٹوں میں صحرا عبور کر کے بحیرہ روم کے ساحل پر پہنچ سکتا ہے، جہاں سے یورپ کا سفر انتہائی مختصر رہ جاتا ہے۔

اگر امریکہ  سعودی عرب کو حیفا تک لانے میں کامیاب ہوتا ہے تو صورتِ حال  تو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور معیشت میں غیر معمولی تبدیلیاں آئیں گی جس میں بڑی تبدیلیوں میں آبنائے ہرمز میں ایران کی ذرا سی مداخلت سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ حیفا کا راستہ کھلنے کے بعد یہ ”خوف“ ختم ہو جائے گا۔ امریکہ اور غیرقانونی صیہونی ریاست مل کر تیل کی سپلائی کو کنٹرول کریں گے، جس سے عالمی معیشت پر ان کی گرفت مضبوط ہو جائے گی اور وہ جب چاہیں قیمتوں کو اپنی مرضی سے اوپر نیچے کر سکیں گے۔

اس اقدام سے ایران کا سب سے بڑا دفاعی ہتھیار اس کا جغرافیہ ہے (یعنی ہرمز پر قبضہ)۔ جب تیل ہرمز کے بجائے حیفا سے گزرے گا، تو ایران کی اہمیت ایک عام علاقائی ملک جیسی رہ جائے گی۔ امریکہ کے لیے ایران پر حملہ کرنا یا اسے مکمل تنہا کرنا بہت آسان ہو جائے گا کیونکہ اب ایران کے پاس عالمی معیشت کو ”یرغمال“ بنانے کا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔

آبنائے ہرمز کے خطرے کو بنیاد بنا کر خلیجی ممالک کو جس متبادل کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، اسے حقیقت بنانے کے لیے جن  اقدامات کی  اشد  ضرورت  ہے اس میںIndia-Middle East-Europe Economic Corridor (IMEC) ہے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جس کا اعلان جی 20 سربراہی اجلاس (2023) میں کیا گیا تھا۔

غیر قانونی صیہونی ریاست کے سیکیورٹی  ماہرین کا کہنا ہے کہ  آئی ایم ای سی (IMEC) محض ایک تجارتی راستہ نہیں ہے، بلکہ یہ چین کے ”بیلٹ اینڈ روڈ“ (BRI) اور ایران کے ”شمال-جنوب راہداری“ (INSTC) کا توڑ ہونے کے ساتھ ساتھ عرب-غیرقانونی صیہونی ریاست اتحاد (The Great Merge): IMEC کا پہلا ستون یہ ہے کہ خلیجی ممالک (سعودی عرب، یو اے ای) کو غیرقانونی صیہونی ریاست کے ساتھ اقتصادی طور پر اس طرح جوڑ دیا جائے کہ وہ کبھی غیرقانونی صیہونی ریاست کے خلاف فوجی یا معاشی کارروائی نہ کر سکیں۔

جب سعودی عرب کا مال غیر قانونی صیہونی ریاست  کی  بندرگاہ (حیفا) سے گزرے گا، تو سعودی عرب خود بخود غیرقانونی صیہونی ریاست کی حفاظت کا ضامن بن جائے گا۔ اس راہداری کا مقصد ہی یہی ہے کہ ایران کو عالمی تجارتی نقشے سے نکال باہر کیا جائے۔ اگر سارا مال بھارت سے دبئی اور پھر غیرقانونی صیہونی ریاست کے راستے یورپ جائے گا، تو ایران کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔

میرے خیال میں یہ سارا کھیل صرف ایران کو محدود کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کو گھیر کر غیرقانونی صیہونی ریاست کے قریب لانا ہے۔ جب تک سعودی عرب غیرقانونی صیہونی ریاست کو ایک قانونی ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، وہ اپنی معیشت کی ”شہ رگ“ (تیل اور گیس کی پائپ لائن) صیہونی کنٹرول والے علاقے سے گزارنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ امریکہ یہاں ”ضامن“ (Guarantor) کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ سعودی عرب کو یقین دلایا جا سکے کہ یہ راستہ ہرمز سے زیادہ محفوظ ہے۔

اگر سعودی عرب اس متبادل راستے پر مجبور ہوتا ہے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا سب سے بڑا موڑ ہوگا۔ یہ صرف ایک تجارتی راستہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ ”عرب غیرقانونی صیہونی ریاست اتحاد“ پر مہرِ تصدیق ہوگی جس کا خواب غیر قانونی صیہونی ریاست دہائیوں سے دیکھ رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایران کی ”جارحانہ حکمتِ عملی“ دراصل اس امریکی  صیہونی منصوبے کے لیے ”ایندھن“ کا کام کر رہی ہے۔

نوٹ: مصنف کی آرا سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔