ایران جنگ کا خاتمہ کب ہوگا؟ صدر ٹرمپ کے بار بار بدلتے بیانات اور زمینی حقائق

صدر ٹرمپ کا اصل منصوبہ کیا ہے، یہ سمجھنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ کبھی مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور کبھی مکمل تباہی کی۔
شائع 31 مارچ 2026 01:45pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، لیکن ان کے بار بار بدلتے بیانات نے تجزیہ کاروں اور عوام کو الجھن میں ڈال رکھا ہے۔

صدر ٹرمپ ایک طرف فتح کے دعوے کر رہے ہیں، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں پچاس ہزار امریکی فوجی بھیج چکے ہیں، علاوہ ازیں، مسلسل فضائی کارروائیوں کے باعث پانچ ہفتے گزر جانے کے باوجود جنگ تھمنے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا اصل منصوبہ کیا ہے، یہ سمجھنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ کبھی مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور کبھی مکمل تباہی کی۔

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے فوری طور پر معاہدہ نہ کیا اور آبنائے ہرمز کو تجارت کے لیے نہ کھولا تو ہم ایران کے بجلی اور پانی کے نظام کو تباہ کر دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایران میں اپنی اس جنگ کا اختتام ان کے تمام پلانٹس کو ملیامیٹ کر کے کریں گے۔

اس سے قبل مارچ کے وسط میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ مجھے اندر سے یہ احساس ہو رہا ہے کہ یہ جنگ زیادہ لمبی نہیں چلے گی اور یہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے کیونکہ اب ایران میں نشانہ بنانے کے لیے عملی طور پر کچھ بچا ہی نہیں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ کے پہلے گھنٹے سے ہی اپنی فتح کے اعلان کر رہے ہیں۔

نو مارچ کو ایک تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم بہت سے طریقوں سے پہلے ہی جیت چکے ہیں لیکن ابھی ہمیں حتمی فتح حاصل کرنی ہے تاکہ اس خطرے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور اس آپریشن کو ابھی بھی ایک عظیم کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔

ایک اور پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ میرے علاوہ کوئی اور یہ کام نہیں کر سکتا تھا، ہم بہت آسانی سے غالب آ جائیں گے۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی صدر کے ہم پلہ بیانات دے رہے ہیں۔

امریکا کے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ تمام اہداف وقت سے پہلے حاصل کیے جا رہے ہیں اور چند ہفتوں میں مشن مکمل ہو جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بھی پچیس مارچ کو بیان دیا تھا کہ ہم اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے کے بہت قریب ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شروع میں اس جنگ کے لیے چار سے پانچ ہفتوں کا وقت دیا تھا جو اب ختم ہو رہا ہے، لیکن خارگ آئی لینڈ پر قبضے اور ایران کی ایٹمی تنصیبات تک رسائی جیسے پیچیدہ معاملات اب بھی موجود ہیں جس سے لگتا ہے کہ ’جلد خاتمے‘ کے دعوے شاید ابھی حقیقت سے دور ہیں۔