ایران جنگ سے یو اے ای کی اسٹاک مارکیٹس میں سرمایہ کاروں کے 120 ارب ڈالر ڈوب گئے

صرف امارات ہی نہیں بلکہ قطر اور بحرین کی مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھی گئی ہے، البتہ سعودی عرب اور عمان کی منڈیاں اس بحران کے باوجود منافع کمانے میں کامیاب رہی ہیں۔
شائع 31 مارچ 2026 02:24pm

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے جہاں خطے کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ہے، وہیں خلیجی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک متحدہ عرب امارات کی دو بڑی اسٹاک مارکیٹوں، دبئی اور ابوظہبی کو مجموعی طور پر 120 ارب ڈالر کا غیر معمولی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کے بعد یہ مارکیٹس عالمی سطح پر سب سے زیادہ متاثر ہونے والی مالیاتی منڈیوں میں شامل ہو گئی ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق دبئی کی مارکیٹ میں 16 فیصد اور ابوظہبی کی مارکیٹ میں 9 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب گئے ہیں۔

اس مالیاتی بحران کی بڑی وجہ دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہزاروں پروازوں کی منسوخی بھی ہے، جو دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ مانا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی معیشت میں سیاحت اور سفر کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور گزشتہ سال اس شعبے نے ملکی معیشت میں 70 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا تھا۔ جنگ کی وجہ سے سیاحت کی صنعت کو پہنچنے والا یہ نقصان براہِ راست اسٹاک مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

صرف امارات ہی نہیں بلکہ قطر اور بحرین کی مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھی گئی ہے، البتہ سعودی عرب اور عمان کی منڈیاں اس بحران کے باوجود منافع کمانے میں کامیاب رہی ہیں۔

امریکی یونیورسٹی دبئی میں فنانس کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیثم عون نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ یہ گراوٹ متحدہ عرب امارات کے لیے ایک ناپسندیدہ پیش رفت ہے، لیکن اسے معیشت کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے بجائے ایک عارضی دھچکا سمجھا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح طور پر سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مارکیٹ کے بھروسے کو پہنچنے والا قلیل مدتی نقصان ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ یو اے ای کے طویل مدتی معاشی منصوبوں کے لیے کوئی بڑا چیلنج ثابت ہو۔

ان کے مطابق کسی بھی مالیاتی مرکز کی اصل پہچان بحران کے دوران اس کے قوانین اور انتظام چلانے کی صلاحیت سے ہوتی ہے۔

نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر برڈن ہیکاک، جو ماضی میں امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں کام کر چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی جنگ کا کوئی حل نکلے گا، دبئی اور ابوظہبی کی مارکیٹوں میں زبردست واپسی کی توقع کی جا سکتی ہے۔

ان کے مطابق طویل مدتی تناظر میں یہ اتار چڑھاؤ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کیونکہ مارکیٹ کی بنیادی کشش اور ریگولیٹری نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جس کا مطلب ہے کہ حالات سازگار ہوتے ہی سرمایہ کار دوبارہ ان منڈیوں کا رخ کریں گے۔

متحدہ عرب امارات نے حالیہ برسوں میں اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر مالیاتی خدمات اور سیاحت کی طرف موڑنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

2024 میں یو اے ای کی اسٹاک مارکیٹ کی مالیت پہلی بار ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، جو خطے میں سعودی عرب کے بعد دوسری بڑی مارکیٹ ہے۔

دبئی کی قیادت کا عزم ہے کہ 2033 تک اسے دنیا کے چار بڑے مالیاتی مراکز میں شامل کیا جائے، تاہم موجودہ جنگی صورتحال ان عزائم کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو رہی ہے۔