امریکا کا سفارتی عملے کو مقامی انفلوئنسرز، حامی افراد کے ذریعے بیانیہ پھیلانے کا ٹاسک
امریکا نے دنیا بھر میں موجود اپنے سفارتی عملے کو مخالف بیانیے کے توڑ کے لیے مربوط مہم چلانے کی ہدایت کی ہے اور اس میں مدد کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کو خصوصی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سفارتی کیبل کے ذریعے دنیا بھر میں موجود امریکی سفارتی عملے کو امریکا مخالف بیانیے کے خلاف فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اخبار کے مطابق کیبل میں سفارت خانوں کو پانچ اہم اہداف دیے گئے ہیں، جن میں امریکا مخالف بیانیے کا توڑ، معلومات تک رسائی میں اضافہ، مخالف قوتوں کی کمزوریوں کو اجاگر کرنا، مقامی سطح پر امریکا کی حامی آوازوں کو آگے لانا اور پرو امریکا بیانیے کو فروغ دینا شامل ہیں۔
سفارتی عملے کو یہ ہدایت بھی جاری کی گئی ہے کہ وہ مقامی سوشل میڈیا انفلوئنسرز، ماہرین تعلیم اور کمیونٹی رہنماؤں کو اس مہم میں شامل کرے تاکہ مقامی سطح پر امریکی بیانیہ زیادہ مؤثر اور قابلِ قبول انداز میں پھیلایا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ سفارتی مشنز کو امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ’ملٹری انفارمیشن سپورٹ آپریشنز‘ کے ساتھ تعاون کی بھی ہدایت کی گئی ہے جو ماضی میں ’سائیکولوجیکل آپریشنز‘ (PsyOps) کے نام سے جانا جاتا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق انڈر سیکریٹری برائے عوامی سفارت کاری سارہ روجرز نے غیر ملکی ’اینٹی امریکن‘ پروپیگنڈا کے مقابلے کو اولین ترجیح قرار دیا ہے اور اس کے لیے تمام سفارتی وسائل بروئے کار لانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کیبل میں خاص طور پر ’ایکس‘ کے ’کمیونٹی نوٹس‘ فیچر کو جدید اور مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے، جس کے ذریعے غلط معلومات کی نشاندہی کر کے اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے جب کہ آزادی اظہار اور پرائیویسی بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا ایران کے ساتھ جنگی صورت حال میں ہے جب کہ مختلف خطوں میں روس اور چین کا اثر و رسوخ بھی بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے، جس کے باعث انفارمیشن وارفیئر (معلوماتی جنگ) کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران جنگ کے دوران امریکا کو سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی بھرپور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایرانی رہنماؤں اور فوجی ترجمانوں کے سخت بیانات، امریکی حکام کے بیانات پر ردعمل سوشل میڈیا پر اپنی خوب جگہ بنا رہے ہیں، جسے روکنے کے لیے کوششیں شروع ہوتی نظر آرہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس نئی مہم کا مقصد بھی سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر ایران، روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور بیانیے کو روکنا ہے۔













