پی ایس ایل بال ٹیمپرنگ: فخر زمان نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی
پاکستان سپر لیگ میں بال ٹیمپرنگ کے الزام پر فخر زمان پر دو میچز کی پابندی لگائی گئی تھی، جس کے خلاف کھلاڑی نے اپیل دائر کردی۔
پی ایس ایل میں بال ٹیمپرنگ کے معاملے میں فخر زمان پر دو میچز کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ فخر زمان نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ گیند کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ میں ملوث نہیں تھے۔
کرکٹر فخر زمان نے پی ایس ایل کی ٹیکنیکل کمیٹی سے رابطہ کر کے اپنے موقف کی وضاحت کی اور پابندی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب اتوار کے روز لاہور میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ 11 کے چھٹے میچ میں لاہور قلندرز کو کراچی کنگز کے خلاف میچ کے دوران بال ٹیمپرنگ کے الزام پر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق میچ کے آخری اوور سے قبل جب کراچی کنگز کو جیت کے لیے 14 رنز درکار تھے، امپائرز نے قومی کرکٹر فخر زمان کو گیند کی حالت غیر منصفانہ طریقے سے تبدیل کرنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کراچی کنگز کو پانچ پینلٹی رنز دے دیے تھے۔
پی سی بی کے مطابق فخر زمان لیول 3 کے قصور وار قرار پائے، فخر زمان ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے۔ میچ حکام کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے فخر زمان پر دو میچز کی پابندی عائد کی گئی۔
215 میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 35 سالہ فخر زمان نے میچ کے فوری بعد ہونے والی سماعت میں بال ٹیمپرنگ کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔
کرکٹ قوانین کے مطابق کھلاڑیوں کو سوائے گیند چمکانے کے اُس کی حالت تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ قانون 41.3.2 کے تحت کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے گیند کی حالت میں تبدیلی جرم تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستان سپر لیگ کے قواعد کے مطابق امپائرز اس قسم کے واقعات کی رپورٹ میچ ریفری کو دیتے ہیں، جو متعلقہ کھلاڑیوں کے خلاف مناسب کارروائی کا اختیار رکھتے ہیں۔
میچ کے دوران کراچی کنگز کی قیادت آسٹریلوی کرکٹر ڈیوڈ وارنر کر رہے تھے، جو 2018 میں آسٹریلیا کے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے 12 ماہ کی پابندی کا سامنا کرچکے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل 11) میں لاہور قلندرز نے سیکیورٹی پروٹوکولز کی خلاف ورزی پر اپنی ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا تھا۔
ٹیم مینجمنٹ کے مطابق یہ فیصلہ اندرونی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا گیا۔ تحقیقات میں سیکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر کپتان کے خلاف مالی جرمانہ لگایا گیا۔
شاہین آفریدی سکندر رضا کے مہمانوں کو سیکیورٹی کے منع کرنے کے باوجود پلیئرز روم میں لے گئے تھے جس پر لاہور قلندرز نے احتساب اور ڈسپلن کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی تھی۔
















