برطانیہ ایران جنگ میں شامل نہیں ہوگا: کیئر اسٹارمر کا دو ٹوک اعلان
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ برطانیہ ایران سے متعلق جاری تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی مشرقِ وسطیٰ میں فوج تعینات کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو عالمی اور برطانوی معیشت کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کیئر اسٹارمر نے بدھ کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے اثرات اگلی نسلوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس صورت حال میں برطانیہ کے طویل مدتی مفادات کا تقاضا ہے کہ وہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط کرے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیئر اسٹارمر کو ایران جنگ میں شامل نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ نے انہیں بزدل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ونسٹن چرچل نہیں ہیں۔
ٹرمپ کی تنقید کے جواب میں کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی دباؤ میں آ کر برطانیہ کو جنگ میں نہیں جھونکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ یورپ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر ہے اور بریگزٹ کے باعث ہونے والے گہرے نقصان کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ برطانیہ کی جنگ نہیں ہے اور نہ ہی برطانیہ کا اس سے کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کو محفوظ رکھنا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستحکم مستقبل یقینی بنانا ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سفارتی سطح پر امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم واضح کیا کہ برطانیہ کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ اس ہفتے اتحادی ممالک کے اہم اجلاسوں کی میزبانی کرے گا، جن کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم بحری راستے کو کھلوانے کی کوششوں میں 35 ممالک ان کے ساتھ ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے مسلسل یورپی ممالک پر جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ تاہم یورپی ممالک کی جانب سے بارہا واضح کیا جاچکا ہے کہ وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی کی حمایت نہ کرنے پر امریکا نیٹو سے علیحدگی پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے نیٹو کو ’کاغذی اتحاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے دن سے اس اتحاد کی ساکھ پر شکوک رکھتے تھے اور اب امریکا اس سے نکلنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔