کیس جیتنے کے بعد گلوکار علی ظفر کا پہلا بیان
پاکستان کے نامور گلوگار اور اداکارعلی ظفر نے عدالتی فیصلے کے بعد اپنا پہلا ردِعمل دیتے ہوئے اسے سچ کی جیت قرار دے دیا۔
گزشتہ چند سالوں سے پاکستانی شوبز انڈسٹری میں جاری ہتکِ عزت اور ہراسانی کے ہائی پروفائل کیس کا ڈراپ سین ہوگیا۔ 31 مارچ کو سیشن کورٹ کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں گلوکار علی ظفر کو الزامات سے بری کر دیا گیا، جبکہ میشا شفیع پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
عدالت کے مطابق میشا شفیع اپنے دعوؤں کے حق میں ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہیں اور متعدد مواقع کے باوجود عدالت میں پیش بھی نہ ہوئیں۔ دوسری جانب علی ظفر نے اپنے گواہان اور شواہد مکمل طور پر عدالت کے سامنے پیش کیے۔
عدالتی فیصلے میں میشا شفیع پر علی ظفر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
فیصلے کے بعد علی ظفر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپنا پہلا ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں سچ کا ساتھ دینے والوں کے شکر گزار ہیں۔ بالآخر انصاف کی جیت ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ا س وقت ان کے دل میں جیت کا غرور نہیں بلکہ صرف عاجزی اور شکر گزاری کے جذبات ہیں۔
گلوکار نے مزید واضح کیا کہ وہ کسی کے لیے بھی دل میں کینہ یا برے جذبات نہیں رکھتے اور اب اس معاملے کو ختم سمجھتے ہیں۔
یا درہے کہ میشا شفیع نے 2018 میں علی ظفر پر ایک سے زائد بار جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جنہیں علی ظفر نے مسترد کرتے ہوئے ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا۔
سوشل میڈیا سے شروع ہونے والا یہ کیس طویل عدالتی کارروائی سے گزرا، جس میں متعدد ججز کی تبدیلی اور سینکڑوں پیشیاں ہوئیں، جس کے بعد عدالت نے بالاخراس کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے کے بعد علی ظفر کے حق میں بڑی تعداد میں صارفین نے حمایت کا اظہار کیا، جبکہ اس کیس پر مختلف آراء کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
















