جنگ کی قیمت کون ادا کرے گا؟ امریکی عوام اپنی معیشت اور فوجیوں کی زندگیوں کے بارے میں سخت فکر مند
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ’پتھر کے دور‘ میں دھکیلنے کی دھمکی اور حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد امریکی عوام میں اس جنگ کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ اور اپسوس کے تازہ ترین سروے کے مطابق امریکیوں کی اکثریت اس جنگ کو اپنے ملک اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے نقصان دہ قرار دے رہی ہے۔
سروے میں شامل 56 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے ان کی ذاتی مالی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ 86 فیصد امریکی اپنے فوجیوں کی جانوں کو لاحق خطرات پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ 52 فیصد امریکیوں کے خیال میں اس جنگ سے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام مزید خراب ہوگا، جبکہ 49 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے ایرانی عوام کی زندگی کا معیار بدتر ہو جائے گا۔
عوامی رائے عامہ اس حد تک منقسم ہے کہ ہر چار میں سے تین امریکیوں نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی سختی سے مخالفت کی ہے، حالانکہ امریکی حکام اسے ایک آپشن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اس بے چینی کی ایک بڑی وجہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ہیں، کیونکہ ٹرمپ کے حالیہ خطاب کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے ہفتے تک امریکا میں پیٹرول کی قیمت ساڑھے چار ڈالر فی گیلن تک پہنچ سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کی مسلح افواج نے بھی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کا سخت جواب دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ تباہ کن اور وسیع حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس صورتحال نے عالمی سطح پر یہ خوف پیدا کر دیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تو مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی مکمل طور پر معطل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عام امریکی شہری کی جیب پر بھی بھاری ثابت ہو رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہاں کا عام آدمی اس تنازع کو ایک خطرناک خواب کے طور پر دیکھ رہا ہے۔











