بچوں کی تربیت میں بڑی غلطی: ایک اہم مہارت جو والدین سکھانا بھول جاتے ہیں
آج کے دور میں زیادہ تر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے پڑھائی میں نمایاں کارکردگی دکھائیں، بہترین اخلاق کے مالک ہوں اور زندگی کے ہر میدان میں کامیاب نظر آئیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ایک مہارت ایسی ہے جسے سکھانے میں اکثر والدین نظرانداز کر دیتے ہیں، جو ان کی پوری زندگی کی بنیاد ہے اور وہ ہے بچوں کو جذباتی تحفظ اور اظہار کی آزادی دینا۔
امریکی میڈیا پلیٹ فارم سی این بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بچے کی خود اعتمادی اور ذہنی مضبوطی اسی وقت پروان چڑھتی ہے جب وہ خود کو محفوظ محسوس کرے اور اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کر سکے۔
ماہرِ نفسیات ریم روضہ کے مطابق بہت سے بچے اپنے جذبات اور ضروریات کو بیان کرنے میں اس لیے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں شروع سے یہ موقع نہیں دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن میں ملنے والا احساسِ تحفظ مستقبل میں شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور جو بچے اپنے جذبات کا آزادانہ اظہار نہیں کر پاتے، وہ مستقبل میں خود اعتمادی کی کمی اور ذہنی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
بچوں میں جذباتی تحفظ پیدا کرنے کے مؤثر طریقے
ماہرین نے والدین کے لیے 6 ایسے طریقے بتائے ہیں جن پر عمل کر کے وہ اپنے بچے کی شخصیت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
جذبات کے اظہار میں جلد بازی نہ کریں
اکثر والدین فوراً مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن بچے کو صرف حل نہیں بلکہ ساتھ اور سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین بچے کو وقت دیں۔ جب بچہ پریشان ہو، تو فوراً مشورے دینے کے بجائے صرف اس کے پاس رہیں۔ اسے احساس دلائیں کہ آپ اس کے دکھ میں شریک ہیں۔ آپ کا یہ جملہ کہ ”میں یہاں ہوں، اپنا وقت لو“ بچے کے لیے کسی دوا سے کم نہیں ہے۔
بچے کے احساسات کو تسلیم کریں
اکثر والدین کہتے ہیں ”تمہیں بھوک نہیں لگی ہوگی ابھی تو کھایا ہے“ یا ”تم تھکے ہوئے نہیں ہو سکتے“۔ یہ جملے بچے کو اپنے ہی احساسات پر شک کرنا سکھاتے ہیں۔
بچے کے جذبات کو رد کرنے کے بجائے اس سے پوچھیں کہ وہ کیا محسوس کر رہا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن بچوں کے جذبات کو نظرانداز کیا جاتا ہے، وہ بڑے ہو کر فیصلوں میں اعتماد کھو دیتے ہیں۔
فرمانبرداری اور جذباتی صحت میں فرق سمجھیں
ایک دلچسپ انکشاف یہ ہوا ہے کہ بہت زیادہ ”اچھے“ بچے دراصل والدین کو خوش کرنے کے لیے اپنے جذبات دبا رہے ہوتے ہیں، اس کے برعکس وہ بچے جو اپنی رائے دیتے ہیں، ذہنی طور پر زیادہ محفوظ اور پُراعتماد ہوتے ہیں۔
ہر وقت تنقید یا تعریف سے گریز کریں
مسلسل “شاباش” یا تنقید کرنے سے بچے کو لگتا ہے کہ وہ ہر وقت جانچا جا رہا ہے۔ نتیجے میں وہ صرف وہی کام کرتا ہے جس پر اسے داد ملے۔ بہتر یہ ہے کہ اس کی کوشش کو سراہا جائے اور اس کے احساسات کو سمجھا جائے۔
غیر ضروری ردعمل کم کریں
ہر بات پر فوری ردعمل دینے سے بچہ اپنی سوچنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ رہنمائی کے ساتھ ساتھ بچے کو خود سمجھنے کا وقت بھی دیں۔
خلوص کے ساتھ جذباتی تعلق بنائیں
بچے آسانی سے پہچان لیتے ہیں کہ والدین واقعی ان کو سمجھ رہے ہیں یا صرف دکھاوا کر رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین سچے دل سے بچے کے جذبات کو اہمیت دیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ کے مطابق، جن بچوں کو بچپن میں جذباتی تحفظ نہیں ملتا، ان میں بڑے ہو کر بے چینی اور ڈپریشن کے امکانات 40 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔
نیورو سائنس کے مطابق جب بچہ اپنے جذبات کو خود پہچانتا ہے، تو اس کے دماغ کا ’پری فرنٹل کورٹیکس‘ مضبوط ہوتا ہے، جو اسے مستقبل میں بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تربیت صرف بچے کی نہیں بلکہ والدین کی بھی ہوتی ہے۔ بچے کو بدلنے سے پہلے والدین کو اپنے ’ردعمل دینے کے انداز‘ کو بدلنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ایک کامیاب انسان وہ نہیں جو صرف اچھے نمبر لائے، بلکہ وہ ہے جو اپنے جذبات کو سمجھتا ہو اور مشکل وقت میں ٹوٹنے کے بجائے دوبارہ کھڑا ہونے کی لچک رکھتا ہو۔















