ایران اچانک دھڑا دھڑ امریکی طیارے کیسے گرا رہا ہے؟

ایرانی فضاؤں میں امریکی برتری کا خاتمہ کیسے ہوا؟
شائع 04 اپريل 2026 02:09pm

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایران نے دو امریکی جنگی طیارے اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنا کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جن میں وہ ایرانی فضائی حدود پر مکمل قبضے اور تہران کے دفاعی نظام کی تباہی کی باتیں کر رہے تھے۔

جمعہ کا دن امریکی فضائیہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا، جب گزشتہ 20 سالوں میں پہلی بار فعال جنگ کے دوران کسی دشمن ملک نے امریکی لڑاکا طیارے مار گرائے۔

جس کے بعد سوال یہ پیدا ہوا کہ جس ایران کے دفاعی نظام کو تباہ شدہ سمجھا جا رہا تھا، اس نے یہ ناممکن کام کیسے کر دکھایا؟

اس کا جواب ایران کی ’غیر روایتی جنگی حکمت عملی‘ میں چھپا ہے۔

ایران نے اپنے دفاعی نظام کو روایتی ریڈاروں کے بجائے ایسے خفیہ طریقوں پر منتقل کر دیا ہے جن کا سراغ لگانا امریکا کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

جمعہ کو ایک ایف-15-ای اسٹرائیک ایگل گرانے کے بعد ایران نے دعویٰ کیا کہ اس حملے کے پیچھے ایک نیا اور جدید دفاعی نظام ہے۔

اس کے کچھ دیر بعد پائلٹوں کی تلاش میں مصروف دو ہیلی کاپٹروں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک اور امریکی طیارہ اے-10 وارٹ ہاگ بھی حملے کی زد میں آکر خلیج فارس میں گر کر تباہ ہو گیا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کامیابی کے پیچھے ایران کا مقامی طور پر تیار کردہ ’مجید‘ ایئر ڈیفنس سسٹم ہے۔

اس سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ریڈار سگنلز خارج نہیں کرتا، بلکہ ’انفراریڈ‘ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جہاز کے انجن سے نکلنے والی حرارت کا پیچھا کرتا ہے۔

چونکہ یہ سسٹم ریڈار استعمال نہیں کرتا، اس لیے جہاز میں لگے وارننگ سسٹم پائلٹ کو آگاہ نہیں کر پاتے کہ کوئی میزائل ان کی طرف آ رہا ہے۔

’مجید‘ سسٹم 8 کلومیٹر کے فاصلے اور 6 کلومیٹر کی بلندی تک مار کر سکتا ہے اور غالباً امریکی طیارے اس وقت کم بلندی پر پرواز کر رہے تھے۔

فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے ماہر بہنام بن طالب لو کہتے ہیں کہ ”ایک مفلوج دفاعی نظام کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مکمل تباہ ہو چکا ہے، ہمیں اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اب بھی لڑ رہے ہیں۔“

ایران نے اپنی حکمت عملی میں ایک اور بڑی تبدیلی یہ کی ہے کہ اب وہ اپنے دفاعی نظام کو ایک جگہ رکھنے کے بجائے ’موبائل لانچرز‘ اور زیرِ زمین ’میزائل شہروں‘ میں چھپا رہا ہے۔

جیو پولیٹیکل تجزیہ کار شائل بن ایفریم کے مطابق ایران کے زیادہ تر نظام اب پہاڑی علاقوں اور خفیہ سرنگوں میں محفوظ ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس کا بھی اندازہ ہے کہ روزانہ کے حملوں کے باوجود ایران کے آدھے سے زیادہ میزائل لانچرز اب بھی سلامت ہیں۔

ایران اب ”فائر اینڈ ریلوسٹیٹ“ (مارو اور جگہ بدل لو) کی تکنیک استعمال کر رہا ہے، جس کی وجہ سے امریکا اور اسرائیل کے لیے ان ٹھکانوں کو تلاش کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایران نے روس سے ’وربا‘ نامی کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائل اور چین سے جدید ’ایچ کیو نائن بی‘ سسٹم حاصل کرنے کے معاہدے بھی کیے ہیں۔

یہ سسٹمز ایف-35 جیسے اسٹیلتھ طیاروں کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز سے بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ روایتی ریڈار کے بجائے تھرمل امیجنگ (حرارت دکھانے والے کیمرے) استعمال کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا اپنی اس کمزوری کا حل تلاش نہیں کرتا، وسطی ایران کی فضائیں امریکی طیاروں کے لیے ایک موت کا جال بنی رہیں گی۔