ایران جنگ کے بعد احمدی نژاد کو ایران کا سربراہ بنانے کا خفیہ امریکی و اسرائیلی پلان چوپٹ کیسے ہوا؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ یہی کہتی رہی کہ اس جنگ کا مقصد صرف ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیت کو ختم کرنا ہے، لیکن اندرونی طور پر اسرائیل نے ایک بہت بڑا نقشہ تیار کر رکھا تھا: نیو یارک ٹائمز
شائع 20 مئ 2026 09:32am

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں شروع کی گئی جنگ کے ابتدائی مقاصد صرف تہران کے جوہری اور میزائل نظام کو تباہ کرنے تک محدود نہیں تھے، بلکہ اس کے پیچھے حکومت کی تبدیلی کا ایک انتہائی غیر معمولی اور خفیہ منصوبہ بھی چھپا ہوا تھا جس کے تحت سابق صدر محمود احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی تیاری کی گئی تھی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ پورا منصوبہ اس وقت بری طرح ناکام ہوا جب جنگ کے ابتدائی حملوں کے فوراً بعد کچھ آپریشنل غلطیاں سامنے آئیں اور ایران کا سیاسی نظام گرنے کے بجائے قائم رہا، جس نے امریکا اور اسرائیل کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اس منصوبے کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا گیا تھا، جس کا مقصد ایرانی قیادت کو ختم کر کے ملک کے اندرونی نظام کو مفلوج کرنا تھا تاکہ وہاں ایک متبادل حکومت قائم کی جا سکے۔

عوام اور میڈیا کے سامنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ یہی کہتی رہی کہ اس جنگ کا مقصد صرف ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیت کو ختم کرنا ہے، لیکن اندرونی طور پر اسرائیل نے ایک بہت بڑا نقشہ تیار کر رکھا تھا جس کے مرکز میں محمود احمدی نژاد موجود تھے۔

جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای ایک مشترکہ فضائی حملے میں مارے گئے، جس کے بعد ملک میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا۔ اسرائیلی منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ علی خامنہ ای کی موت سے ایران کا پورا کمانڈ سسٹم تباہ ہو جائے گا، لیکن اس حملے میں وہ ایرانی حکام بھی مارے گئے جن کے بارے میں واشنگٹن کا خیال تھا کہ وہ حکومت کی تبدیلی کے وقت ان کے ساتھ تعاون کر سکتے تھے۔

اسی دوران تہران کے علاقے نارمک میں ایک اور خفیہ کارروائی کی گئی جہاں محمود احمدی نژاد نظر بند تھے۔

اسرائیلی فضائیہ نے ان کے گھر کے باہر موجود پاسدارانِ انقلاب کی اس سیکیورٹی پوسٹ کو نشانہ بنایا جو ان پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا کہ سیکیورٹی پوسٹ تو تباہ ہو گئی لیکن احمدی نژاد کا گھر محفوظ رہا۔

اس حملے میں سابق صدر معمولی زخمی ہوئے لیکن وہ بچ گئے۔

امریکی حکام اور احمدی نژاد کے ایک قریبی ساتھی نے تصدیق کی کہ اس حملے کا مقصد دراصل انہیں ایرانی فورسز کی قید سے آزاد کرانا تھا تاکہ علی خامنہ ای کے بعد انہیں ملک کا نیا سربراہ پیش کیا جا سکے، جسے امریکی میڈیا نے جیل توڑنے کے آپریشن سے تشبیہ دی۔

تاہم، اس قاتلانہ ماحول اور موت کے اس قریبی تجربے نے محمود احمدی نژاد کو شدید مایوس کر دیا۔ وہ اس حملے کے بعد منظرِ عام سے بالکل غائب ہو گئے اور اب وہ کہاں ہیں، اس بارے میں کوئی نہیں جانتا۔

ان کے پیچھے ہٹ جانے سے اسرائیل کا پورا منصوبہ ادھورا رہ گیا۔

محمود احمدی نژاد اپنے دورِ صدارت میں اسرائیل مخالف بیانات اور سخت گیر فیصلوں کی وجہ سے مشہور تھے، لیکن بعد کے سالوں میں ان کے علی خامنہ ای کے قریبی حلقوں سے شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور انہوں نے اعلیٰ حکام پر کرپشن کے الزامات بھی لگائے تھے۔

اسی دوری کی وجہ سے امریکا کا خیال تھا کہ انہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے اس رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ شروع سے ہی اس آپریشن کے اہداف کے بارے میں بالکل واضح تھے، جن کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنا، ان کی پیداواری تنصیبات کو ختم کرنا، ان کی بحریہ کو غرق کرنا اور ان کے نیٹ ورک کو کمزور کرنا تھا، اور امریکی فوج نے اپنے تمام اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں۔

اس کے باوجود نیویارک ٹائمز کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اسرائیل کے منصوبے میں کرد فورسز کو متحرک کرنا اور ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر کے عوام کو یہ یقین دلانا بھی شامل تھا کہ موجودہ حکومت اپنا کنٹرول کھو چکی ہے۔ لیکن ایران میں کوئی بڑی عوامی بغاوت سامنے نہیں آئی اور ایران کی قیادت نے مشکلات کے باوجود خود کو سنبھال لیا، جس کے باعث یہ خفیہ منصوبہ پائے تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔