ایران جنگ یا حکومتی ٹیکس؟ پٹرول کی دوگنی قیمت کی وجہ کیا ہے؟
دنیا میں کوئی بھی غیر معمولی واقعہ رونما ہو، پاکستان میں ایک عمل بڑے تسلسل اور پابندی سے دہرایا جاتا ہے۔ چند وزراء ٹی وی اسکرینز پر نمودار ہوتے ہیں، عالمی حالات کا رونا رو کر قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا اعلان کر دیتے ہیں، اور پھر چند روز بعد دوبارہ آ کر معمولی سی کمی کا اعلان کر کے ’عوامی ریلیف‘ کا کریڈٹ لیتے ہیں۔ حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور خاص طور پر ایران تنازع کے دوران بھی من و عن یہی ڈرامہ دہرایا جا رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث دنیا شدید معاشی دباؤ سے گزر رہی ہے، کیوں کہ تیل اب محض ایک ایندھن نہیں رہا بلکہ طاقت، سیاست اور دباؤ کا ایک موثر ہتھیار بن چکا ہے۔ اہم بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھونچال برپا کر رکھا ہے۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتِ حال کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں قیمتوں میں اضافہ صرف عالمی حالات کا نتیجہ ہے یا اس میں ہماری معاشی حکمتِ عملی کا بھی کوئی کمال ہے؟
سرکاری اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، تو ایک انتہائی دلچسپ مگر تشویش ناک تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی بنیادی قیمت تقریباً 245 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔
یہاں تک تو معاملہ عالمی منڈی کے تابع ہے اور سمجھ میں آتا ہے، مگر اس کے بعد مقامی سطح پر جو کہانی شروع ہوتی ہے، وہ حیران کن ہے۔ اس بنیادی قیمت پر 24 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے اور پھر ’ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ‘ کی مد میں 25 پیسے مزید جوڑ دیے جاتے ہیں۔ یوں درآمدی سطح پر ہی پٹرول کی قیمت 271.27 روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔
یہاں سے آگے قیمت میں ہونے والا اضافہ کسی عالمی دباؤ کا نہیں بلکہ سو فیصد ہماری داخلی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ پورے ملک میں قیمت یکساں رکھنے کے لیے 7.52 روپے فی لیٹر کا ’اِن لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن‘ (IFEM) شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد آئل کمپنیوں کا 7.87 روپے اور پٹرول پمپس کا 8.64 روپے فی لیٹر منافع بھی اسی میں شامل ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ اخراجات معمول کا حصہ لگتے ہیں، مگر جب ان سب کو جمع کیا جائے تو قیمت کا گراف تیزی سے بڑھتا چلا جاتا ہے۔
عوام کی کمر توڑنے والا اصل بوجھ ’پٹرولیم لیوی‘ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں حکومت کی جانب سے 2.50 روپے فی لیٹر کی ’کلائمیٹ سپورٹ لیوی‘ شامل کی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں جو چیز پٹرول کی قیمت کو عالمی مارکیٹ سے تقریباً دگنا کر دیتی ہے، وہ ’پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی‘ (PDL) ہے۔
مارچ میں حکومت نے یہ لیوی 105 روپے سے بڑھا کر تقریباً 160 روپے فی لیٹر کر دی تھی، جس کے بعد پٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 458.41 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی تھی۔
ذرا سوچیے! جو پٹرول عالمی سطح پر لگ بھگ 246 روپے کا ہونا چاہیے تھا، وہ مقامی پالیسیوں اور ٹیکسز کے بوجھ تلے دب کر تقریباً دوگنا ہو گیا۔ اگلے روز وزیراعظم نے اس لیوی میں 80 روپے کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد اس وقت فی لیٹر پٹرول تقریباً 378 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جو اس نام نہاد ریلیف کے باوجود اس کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔
ڈیزل کی صورتِ حال بھی کچھ مختلف نہیں، بلکہ بعض حوالوں سے یہ زیادہ پیچیدہ ہے۔ عالمی قیمت کی بنیاد پر ڈیزل کی قیمت 459.97 روپے فی لیٹر بنتی ہے، جس پر 35.73 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے اور یوں اس کی درآمدی قیمت 496.97 روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
اس کے بعد وہی اِن لینڈ فریٹ مارجن (4.37 روپے)، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع (7.87 روپے) اور پٹرول پمپس کا مارجن (8.64 روپے) شامل کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی 2.50 روپے فی لیٹر کی کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی برقرار رہتی ہے۔
اگرچہ حکومت نے ڈیزل پر پٹرولیم لیوی صفر کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود صارف کے لیے قیمت 520.35 روپے فی لیٹر تک جا پہنچتی ہے۔
یہ پہلو بھی انتہائی قابلِ غور ہے کہ حکومت کے لیے پٹرولیم لیوی ریونیو اکٹھا کرنے کا ایک اہم اور آسان ذریعہ بن چکی ہے۔ بظاہر یہ اقدام بجٹ کا مالی خسارہ کم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے مگر اس کا سیدھا اور براہِ راست وار عوام کی جیب پر ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملکی معیشت کا سارا بوجھ اور بجٹ کا توازن عوام کی جیب پر ہی منحصر ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حکومت کو ریونیو چاہیے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس بوجھ کی تقسیم منصفانہ ہو رہی ہے؟
پٹرول اور خصوصاً ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کا اثر صرف ٹرانسپورٹ کے کرایوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ پورے معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ مال بردار گاڑیوں، زرعی شعبے اور صنعتوں میں ڈیزل لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس کی قیمت میں ہونے والا اضافہ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو براہِ راست آسمان پر پہنچا دیتا ہے۔
یوں ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے غریب کے لیے سبزی، آٹا، دال اور زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس پورے چکر میں سب سے زیادہ پسنے والا طبقہ متوسط اور کم آمدنی والا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے بری طرح دبا ہوا ہے۔
ہماری معاشی بدحالی کی ایک بڑی وجہ پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہے۔ ہر حکومت اپنے انداز سے فیصلے کرتی ہے، جس کے باعث اس کی منصوبہ بندی طویل مدتی نہیں بلکہ الیکشن تک محدود ہوتی ہے۔
اگر توانائی کے شعبے میں کوئی واضح اور مستقل حکمتِ عملی اپنائی جاتی تو شاید آج اس سنگین حالات میں صورت حال بالکل مختلف ہوتی۔ پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز میں کم از کم اتنی لچک پیدا کی جانی چاہیے کہ عالمی بحران کے دوران عوام کو کچھ حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
اگر عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت 246 روپے کے قریب ہے اور پاکستانی صارف اسے دگنی قیمت میں خریدنے پر مجبور ہے، تو اس بات پر مہر ثبت ہوتی ہے کہ یہ فرق صرف اعداد کا نہیں، بلکہ پالیسی کا ہے۔
جب تک اس فرق کو سمجھ کر درست نہیں کیا جائے گا، تب تک ہر عالمی بحران کے بعد یہی منظر دہرایا جاتا رہے گا، چند وزراء ٹی وی پر آئیں گے، دکھڑے سنائیں گے، قیمتیں بڑھائیں گے اور چلے جائیں گے اور اور بوجھ ہمیشہ کی طرح عوام کے کندھوں پر ہی پڑے گا۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔















