آرٹیمس 2 مشن: انسانوں کو زمین سے دور ترین مقام تک پہنچانے کا نیا ریکارڈ قائم
خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو گیا ہے کیونکہ ناسا کے ”آرٹیمس 2“ مشن نے زمین سے دور ترین فاصلے تک سفر کرنے کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
اورین اسپیس کرافٹ میں سوار چار خلا بازوں نے پیر کے دن عالمی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 58 منٹ پر چار لاکھ ایک سو اکہترکلومیٹر کا فاصلہ عبور کیا، جو اس سے پہلے 1970 میں اپالو 13 مشن نے قائم کیا تھا۔ یہ مشن چاند کے عقبی حصے کے گرد چکر لگا رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ زمین سے اپنے زیادہ سے زیادہ فاصلے یعنی تقریباً 4 لاکھ 6 ہزار 788 کلومیٹر تک بھی پہنچ جائے گا۔
اس تاریخی سفر کے دوران خلا باز چاند کے قریب سے گزرتے ہوئے چھ گھنٹے سے زیادہ وقت چاند کی سطح کے مشاہدے اور اس کی تفصیلات درج کرنے میں گزاریں گے۔ اس کے بعد یہ خلائی جہاز ایک خاص واپسی کے راستے کے ذریعے زمین کی طرف روانہ ہوگا جس میں تقریباً چار دن لگیں گے۔
اس اہم دن کا آغاز ایک جذباتی پیغام سے ہوا جو اپالو 8 اور 13 کے آنجہانی خلا باز جم لوول نے اپنی وفات سے قبل ریکارڈ کروایا تھا۔ انہوں نے نئے خلا بازوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ:
”یہ ایک تاریخی دن ہے، اور میں جانتا ہوں کہ آپ کتنے مصروف ہوں گے، لیکن اس نظارے سے لطف اندوز ہونا نہ بھولیں“ اور
”میرے پرانے علاقے میں خوش آمدید، مجھے فخر ہے کہ جب آپ چاند کے گرد سفر کر رہے ہیں تو اب یہ مشعل آپ کے ہاتھوں میں ہے۔“
چاند کے اس دور دراز حصے کے گرد چکر لگاتے ہوئے خلا بازوں کو ان علاقوں کو دیکھنے کا موقع ملے گا جو پہلے کبھی انسانی آنکھ نے براہ راست نہیں دیکھے۔
زمین پر بھیجی گئی ایک تصویر میں چاند کا ایک بہت بڑا گڑھا دکھایا گیا ہے جسے ’اورینٹل بیسن‘ کہا جاتا ہے اور اس سے پہلے اسے صرف خودکار کیمروں کے ذریعے دیکھا گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی کے باوجود انسانی آنکھ اب بھی بہترین کیمرہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ کسی بھی مصنوعی آلے کے مقابلے میں زیادہ تفصیلات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس مشن کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس میں شامل عملہ تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔ اس ٹیم میں ریڈ وائز مین کمانڈر کے طور پر شامل ہیں جبکہ وکٹر گلوور چاند کے گرد اڑان بھرنے والے پہلے غیر سفید فام، کرسٹینا کوچ پہلی خاتون اور جیریمی ہینسن پہلے غیر امریکی خلا باز بن گئے ہیں۔
ٹیکساس میں واقع ناسا کے مرکز میں سائنسدانوں کی ایک بڑی ٹیم موجود ہے جو خلا بازوں کی فراہم کردہ معلومات کو براہ راست نوٹ کر رہی ہے۔
جب یہ خلائی جہاز چاند کے پیچھے سے گزرے گا تو تقریباً 40 منٹ کے لیے زمین سے اس کا رابطہ منقطع ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق خلا بازوں کو چاند اس وقت اتنا بڑا نظر آئے گا جیسے ہاتھ کی دوری پر رکھی ہوئی باسکٹ بال ہو۔ اگرچہ یہ مشن چاند کی سطح سے کچھ فاصلے پر رہے گا، لیکن اس کی کامیابی مستقبل کے بڑے مشن جیسے آرٹیمس 3 اور 4 کے لیے بہت ضروری ہے، جن کا مقصد انسان کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنا ہے۔
















