اسکول ٹیچرز کا پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج جاری

شائع 15 مئ 2016 08:17am
فائل فوٹو فائل فوٹو

لاہور:تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف اسکول ٹیچرز کا پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرہ اتوار کو دوسرے روز بھی جاری ہے۔

دو روز سے پرائمری اسکولز کھل تو رہے ہیں لیکن سینکڑوں اساتذہ کلاسوں کی بجائے سڑکوں پر ہیں جس کے باعث تعلیمی عمل متاثر ہورہا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے سرکاری اسکولوں کی نجکاری کیخلاف دھرنا دیئے بیٹھے یہ اساتذہ بضد ہیں کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے یہ سڑکوں پر ہی رہیں گے۔

اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ سرکاری اسکولز کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے حوالے نہ کیا جائے۔

ٹیچرز کیلئے سینیارٹی کے حساب سے پیکج کا اعلان اور پے اسکیل پر نظر ثانی بھی ٹیچرز کے مطالبات میں شامل ہے۔

شدید گرمی کے باوجود بعض خواتین شیر خوار بچوں سمیت مظاہرے میں شریک ہوئیں۔

مطالبات کے حق میں بینرز اٹھائے مظاہرین نے حکومتی پالیسی کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔

حکومت کی جانب سے پنجاب کے پانچ ہزاراورلاہورکے 150 پرائمری اسکولوں کو پیف کے حوالے کئے جانے سے15ہزار ٹیچرزمتاثرہو سکتے ہیں۔

پنجاب ٹیچرز یونین کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ سرکاری سکولوں کی نجکاری کرکے اساتذہ کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ مطالبات کی منظوری نہ ہونے تک یہ احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔

سرکاری اسکولوں کی نجکاری پالیسی کیخلاف اس احتجاج نے پرائمری تعلیم عمل کو شدید متاثر کیا ہے۔