وزیراعظم نے اپنی جائیداد کی بعض تفصیلات بیان کردیں

شائع 16 مئ 2016 01:44pm

فائل فوٹو فائل فوٹو

 اسلام آباد:وزیراعظم نواز شریف نے اپنی جائیداد سے متعلق بعض تفصیلات ایوان میں بیان کردیں اور کہا کہ ہمارے رزق حلال کی کہانی جدوجہد سے ماخوز ہے ۔ہمارے کاروبار نے اربوں روپے کے ٹیکسز ادا کیے ہیں جبکہ وہ خودذاتی طور پر تین کروڑ روپے ٹیکس اداکرچکے ہیں ۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری ہے ۔اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم میاں محمد نوا زشریف نے کہا ہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں ایک رپورٹ آئی،رپورٹ میں میرے دو بیٹوں کا بھی ذکر آیا تاہم اپنے وزراء کی رائے کے برخلاف انہوں نے اپنے بیٹوں کے ناموں کی وجہ سے قوم کے سامنے صفائی پیش کی ۔

اس موقعے پر انہوں نے اپنی جائیداد سے متعلق بعض تفصیلات ایوان کے سامنے پیش کیں اور کہا کہ ہمارے رزق حلال کی کہانی جدوجہد سے ماخوز ہے ۔ہمارے کاروبار نے اربوں روپے کے ٹیکسز ادا کیے جبکہ وہ خودذاتی طور پر تین کروڑ روپے ٹیکس اداکرچکے ہیں ۔ اس موقعے پر انہوں نے اپنے کاروبار کی تشکیل اور مختلف ادوار حکومت میں اسکی ترقی اور دیگر تفصیلات بھی ایوان میں بیان کیں ۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں پاناما میں شامل لوگوں کے نام آئے ،آف شور کمپنیوں کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی بدعنوانی مرتکب ہوا ہے تاہم انہوں نے اپوزیشن کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا ۔وزیرا عظم نے شکوہ کیا کہ کمیشن کی تشکیل کو لائق تحسین قرار دینے کے بجائے ٹی او آرز کو متنازعہ بنادیا گیااور ججز کیلئے اس کمیشن کی سربراہ کرنا مشکل بنادیا گیا ۔

نواز شریف کا کہنا تھاکہ دامن صاف ہے، کسی آئینی استثنی کی ضرورت نہیں،ہم اپنی توجہ ملکی تعمیر و ترقی پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں تاہم تحقیقات کے بغیر الزام لگانے سے سیاست بے توقیر ہوتی ہے۔وزیر اعظم نے مطالبہ کیا کہ ایوان احتساب کے جامع نظام پر غور کرے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ کے کرم سے ہمار ادامن صاف ہے،کسی مسئلے یا بات کو انا کا معاملہ نہیں بنانا چاہتا ۔یہ معاملہ اب ایسے ختم نہیں ہوسکتا ،بات چل نکلی ہے تو دو دھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہونا چاہیئے ۔ان کیسز کو کیوں نہ دیکھا جائے جنکے ٹھوس شواہد موجود ہیں ۔