رہائی کیلئے کوئی تاوان نہیں دیا گیا، شہباز تاثیر
بی بی سی اردوصوبے پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر نے انکشاف کیا ہے کہ اغوا کاروں نے ان پر بہیمانہ تشدد کیا۔
بی بی سی اردو کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے شہباز تاثیر کا کہنا تھا کہ ان کے اغوا کاروں نے ان پر بہیمانہ تشددکیا اور اذیتیں دیں مگر باوجود اس کے کیوں کہ خدا کو ان کی زندگی منظور تھی،وہ انہیں بچاتا رہا۔
اپنے اوپر ہونے والے تشدد کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شروع میں اغوا کاروں نے انہیں کوڑے مارنے شروع کیے، تین چار دنوں میں انہیں پانچ سو سے زیادہ کوڑے مارےگئے۔ ان کی کمر بلیڈوں سے کاٹی اور پلاس(زمبور) لے کر ان کی کمر سے گوشت نکالا۔انہوں نے مزید بتایا کہ انکے ہاتھوں اور پیروں کے ناخن نکالے اور زمین میں دبا دیا، ایک دفعہ سات دن کیلئےاور ایک دفعہ تین دن کیلئے۔ پھر مزید تین دن کیلئے۔
شہباز تاثیر نے بتایا کہ انہیں ملیریا ہو گیا لیکن انہیں دوائی نہیں دی گئی۔انہیں کہا جاتا تھا کہ ہمیں بینک اکاؤنٹ دو۔ جب اغوا کاروں نے انکا گوشت جسم سے کاٹا تھا تو اتنا خون بہا کہ ایک ہفتہ بہتا رہا اور زخم بند نہیں ہو رہا تھا۔ وہ ان سے بینک اکاؤنٹ مانگتے رہتے تھے۔وہ بس اللہ سے صبر کی دعا کرتے تھے۔ آخر میں وہ اتنا سخت ہو گئے کہ کہتے جو کرنا ہے کر لو۔ الحمداللہ، اللہ نے خود ہی ان کی اذیت ختم کر دی۔انہیں لگتا تھا کہ اغوا کارانہیں جتنا بھی ماریں اللہ نے انہیں اپنی حفاظت میں رکھا ہوا تھا، ایک شیل میں رکھا ہوا تھا۔ اور وہ اس شیل میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔ نہ ان کے الفاظ اور نہ ان کے جسمانی اعمال۔
ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ ان کی رہائی کیلئے کوئی تاوان نہیں دیا گیا۔ وہ وہاں سے بھاگ گئے تھے۔ جیل میں انہیں ایک آدمی ملا، اس نے انہیں کچلاک تک پہنچانے میں مدد کی اور کچلاک سے انہوں نے اپنے خاندان سے رابطہ کیا اور اس کے بعد انہیں آرمی نے لیا اور لاہور پہنچا دیا۔
شہباز تاثیر نے مزید بتایا کہ ایک مرتبہ ڈرون حملوں کی وجہ سے وہ ڈیڑھ سال تک ایک خاندان کے ساتھ رہے۔ کسی کو پتہ نہیں تھاکہ وہ کون ہیں اور شاید افواہ بھی اڑی تھی کہ شہباز تاثیر ڈرون حملے میں مر چکا ہے۔ لیکن الحمد اللہ وہ بچ گئے تھے۔وہ بہت خوش قسمت تھے کہ وہ دو ڈرون حملوں میں بچے۔ ایک جیٹ حملے میں وہ بم گرنے کی جگہ سے صرف سو میٹر دور تھے ، انہیں نہیں معلوم کہ وہ کس طرح زندہ سلامت بیٹھے ہیں۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔