قومی اسمبلی: مقامی حکومتی نظام سے متعلق بل کثرت رائے سے منظور
فائل فوٹواسلام آباد:قومی اسمبلی نے مقامی حکومتوں کے نظام سے متعلق آئینی ترمیم کا بل کثرت رائے سے مسترد کردیا ۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکرایازصادق کی صدارت میں شروع ہوا توایوان میں صرف 25 ارکان اوردو وزراء موجود تھے ۔
جس پرجمشید دستی نے کورم کی نشاندہی کی تواسپیکرکواجلاس ملتوی کرنا پڑا ۔ کورم پورا ہونے پراجلاس دوبارہ شروع ہوا توایم کیوایم نے کراچی میں کارکنوں کے ماورائے عدالت گرفتاریوں اورقتل کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رکن محمد کمال نے کہا کہ' کراچی آپریشن کو متنازع نہ بنایا جائے ،کراچی میں مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے مہاجرین کے خلاف نہیں'۔
جبکہ اسپیکرقومی اسمبلی نے کل ایوان میں ن لیگ کے ارکان کی حاضری کی تفصیل ایوان کوبتا دی۔
اسپیکرایازصادق نے کہا کہ گزشتہ روز ایوان میں مسلم لیگ ن کے 171 ارکان موجود تھے۔
طلال چوہدری اورمیاں منان نے مطالبہ کیاکہ غلط اعداد و شمار پیش کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔
اسپیکرنے کہاکہ جھوٹ بولنے والوں کو جھوٹ بولنے دیں ، مشیرامورخارجہ سرتاج عزیزنےبتایا کہ اوآئی سی کمیٹی کے اب تک درجنوں اجلاس ہوچکے ہیں ،2013میں اوآئی سی کے اجلاس میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پرسیکیورٹی کے باعث ملتوی کی ،اب یہ آئندہ سال قازقستان میں ہوگی۔
ایم کیو ایم نے مقامی حکومتوں کے نظام سے متعلق آئینی ترمیم کا بل پیش کیا ، حکومت کی مخالفت پرقومی اسمبلی نے کثرت رائے سے بل مسترد کردیا ۔
ایم کیوایم کا ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بل اسپیکرنے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا ،بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔