الطاف حسین کا نام متحدہ کے آئین سے نکال دیا گیا
File Photoکراچی :ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کا نام ایم کیو ایم کے آئین سے نکال دیا گیا، آرٹیکل نائن بی کے خاتمے کے بعد الطاف حسین کا پارٹی کے فیصلوں پر اختیار ختم ہوگیا، فاروق ستار نے کہا ہے کہ فیصلہ کسی کی ملی بھگت سے نہیں کیا، اڑتیس سال کی جدوجہد جاری رہے گی، کراچی آپریشن پر مانیٹرنگ کمیٹی بننی چاہئے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔
بانی سے زبانی کے بعد آئینی قطع تعلقی بھی ہوگئی، ایم کیوایم مائنس الطاف ہوگئی۔ایم کیو ایم کے بانی کو پارٹی کے فیصلوں کو ویٹو کرنے کا اختیار بالاآخرختم ہوگیا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے قائد فاروق ستار نے بڑی خبر سنائی۔
انہوں نے کہا کہ ہم لندن سے قطع تعلقی کے اعلان کو عملی جامہ پہنا دیا ہے۔رابطہ کمیٹی اور مشاورتی کونسل کی توثیق کے ساتھ ایم کیو ایم کے آرٹیکل نائن بی کو ختم کردیا گیا ہے۔فاروق ستارکا کہنا تھا کہ لندن سے مکمل قطع تعلق کیلئے آئینی ترامیم کی ضرورت تھی، ہم نے جو وعدے کیے تھے ہم اس پر قائم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل سیون بی میں بھی ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق کنوینیئر کی غیر موجودگی میں سینیئر ڈپٹی کنوینیر پارٹی کی قیادت کر سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی فرمائشی پروگرام پر نہیں سب کچھ خود کیا ہے۔
فاروق ستار نے ان اعلانات کے بعد خوب گلے شکوے بھی کئے۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب ہونا چاہئے، بائیس اگست کو گرفتار بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے۔
فاروق ستارنے کہا کہ اسیر خواتین کی رہائی کے حوالے سے وزیراعظم اور وزیراعلٰی سندھ نے یقین دہانی کرائی تھی لیکن آج تفتیشی افسر کو تبدیل کردیا گیا ہے، وزیراعظم اور وزیراعلٰی بتائیں کہ یہ فیصلے کون کررہا ہے؟فاروق ستار کا کہنا تھا جس کے دفاتر غیر قانونی ہے۔ سب توڑیں جائیں،کچھ تھانے اگر غیر قانونی زمین پر ہیں تو انکا آپ کیا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کی صبر کی انتہا ہے۔آپکو کسی کروٹ اس اونٹ کو بھٹانا ہوگا، یہ سلسلہ اب ختم کرنا ہوگا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔