مسلمانوں کیخلاف ٹویٹ کرنا  مہنگا پڑگیا سونونگم گنجے ہوگئے

اپ ڈیٹ 20 اپريل 2017 04:18am

sonu2

ممبئی:بولی وڈ کے معروف گلوکار اور اداکار سونو نگم کا  دو دن قبل اذان کیخلاف دیا گیا بیان انہیں بھاری پڑ گیا ،انہوں نے مسلمانوں کے جذباتوں کو مجروح کرتے ہوئے  ٹویٹر پر لکھا تھا کہ  "وہ مسلمان نہیں ہیں پھر بھی انہیں روز صبح  اذان کی آواز سے جاگنا پڑتا ہے آخر یہ جبری مذہب پرستی کب ختم ہوگی"۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ان کی جانب سے کیے جانے والے  ٹویٹر پیغامات نے مسلمانوں سمیت غیر مسلموں کو بھی مشتعل کردیا  ،انہوں نے خود کو بے قصور ظاہر کرنے کیلئے  مشہور ہیئر اسٹائلسٹ  عالم خان کو  بلایا اور اپنے بال کٹوادئیے۔

یہ بھی پڑھیئے: اذان سے متعلق نامناسب ٹویٹ کرنے پر سونو نگم پر کڑی تنقید

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ  "مجھے امید نہیں تھی کہ ایک سادہ سی کہی جانے والی بات اتنا بڑا   طوفان مچادے گی ،میں محمد رفیع کو اپنا گروو مانتا ہوں  اس کے علاوہ میرا ڈرائیور بھی مسلمان ہے ،میں مسلمانوں کیخلاف نہیں ہوں  ،بلکہ میں اپنے آپ کو سیکولر کہتا ہوں۔"

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ  ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے  ،انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ بیان   صرف سماجی مسئلے کی بنیاد پر دیا تھا ان کا مقصد مذہبی نہیں تھا۔

ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ گنجے کیوں ہوگئے   تو انہوں نے کہا کہ" یہ کوئی تحریک نہیں ہے نہ ہی میں کسی کو چیلنج کرنا چاہتا ہوں میں صرف یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ   جس انسان نے مجھے گنجا کیا وہ ایک مسلمان ہے  ،یہ صرف ایک طریقہ ہے میری باتوں کی ترجمانی کرنے کا ،میں میڈیا  پر کہی جانے والی باتوں سے تنگ آگیا ہوں۔

اپنے کنسرٹس میں لاؤڈ اسپیکرز استعمال کرنے کے حوالے سے کیے جانے والے سوال پر سونو کا کہنا تھا کہ "گلوکار  ایک محدود وقت کیلئے گانا گاتاہے "میں سیکولر ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نے ہر چیز کو قبول کرلیا ہے ،انہوں نے کانگریس کے لیڈر  احمد پٹیل کا  کہا ہوا یک فقرہ دوہراتے ہوئے کہا کہ"اذان ضروری ہے،لاؤڈ اسپیکر نہیں"۔

یہ بھی پڑھیئے: اذان کے بارے میں مختلف رائے رکھنے والے شوبزاداکار