سالگرہ کی موم بتیاں کہیں خطرناک تو نہیں؟
وہ لوگ جو سالگرہ کا کیک کھانے کیلئے لپکتےہیں انہیں یہ عمل کرنے سے قبل دو بار سوچ لینا چاہیئے۔
نئے ڈیٹا کے مطابق موم بتیاں بُجھانے کی رسم کیک پر بیکٹیریا چھوٹ دیتی ہے۔
جنوبی کیرولینا کی کلیمسن یونیورسٹی کے محققین کی ٹیم نے معلوم کیا کہ سالگرہ کی موم بتیوں کو بجھانے کیلئے ماری جانے والی پھونک سے جو تھوک پھیلتا ہے اس سے 1400فیصد تک بیکٹریا کیک کی آئیسنگ پر بڑھ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر پال ڈاسن، یونیورسٹی کے ایک پروفیسر، نے یہ تحقیق اپنے انڈر گریجوایٹ طلباء کے ساتھ کی تاکہ وہ محفوظ خوراک کے متعلق سوچ سکیں۔
وہ عموماً اس طرح کی چیزوں کو دیکھتے ہیں جیسے کہ فائیو سیکنڈ رُول یا کھانا شیئر کرنے کا خطرہ، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا خیال انہیں بحیثیت والد اپنے ذاتی تجربے سے آیا۔
تحقیقی ٹیم نے کیک کی طرح بنے اسٹائرو فوم کے اوپر ایک فوائل کے ٹکڑے پر فراسٹنگ ڈالی اور اس کے اندر موم بتیاں لگادیں۔
موم بتیاں بُجھانے سے قبل انہوں نے برتھ ڈے پارٹی کا ماحول بنانے اور اپنے تھوک کے غدود کو فعال رکھنے کیلئے پیزا کھایا ۔
پھر انہوں نے جلی ہوئی موم بتیاں بجھائیں۔
بیکٹیریا کی گنتی کیلئے ٹیم نے فراسٹنک کو سٹرلائزڈ پانی سے ڈائیلیوٹ کیا اور انہیں ایگر پلیٹوں پر پھیلا دیاتاکہ بیکٹریا کی نمو ہوسکے۔
اوسطاً موم بتیاں بجھانےسے فروسٹنگ پر بیکٹیریا کے بڑھنے کا تناسب 14گُنا تھا۔
Daily mailبشکریہ