محترمہ بے نظیر بھٹو کا اگرچہ کوئی مستقل پیر تو نہیں تھا مگر انہیں بہت سے بزرگوں سے عقیدت تھی۔ ایک بزرگ رحمت اللہ عرف دیوانہ بابا عرف چھڑی بابا آف دھنکہ شریف آف مانسہرہ تو بی بی کو نواز شریف صاحب سے ترکے میں ملے۔ دیوانہ بابا کے پاس بہت سی سیاسی ہستیاں جاتی تھیں۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ جس کو وہ غضب ناک ہو کر اپنی چھڑی مارتے اس کی مراد بر آتی۔ میاں صاحب نے چھڑی بابا کے گاؤں کو ترجیحاً بجلی پہنچائی اور بے نظیر بھٹو نے ان کے آستانے تک سڑک بنوائی اور ہیلی کاپٹر میں بھی بابا جی کی فرمائش پر جھولا دیا۔
مگر پیر دھنکہ کی چھڑی کی ضرب کے باوجود میاں صاحب اور بی بی صاحبہ کی سیاسی پرواز کبھی بھی ہموار نہیں رہی۔ نگراں وزیرِ اعظم غلام مصطفی جتوئی بھی چھڑی بابا کے مرید تھے۔ آخری عمر میں نگراں وزارتِ عظمیٰ مل گئی ۔پیر صاحب دھنکہ شریف کا 2008 میں وصال ہو گیا۔ اسلام آباد کے نواحی علاقے چک شہزاد میں ملتانی بابا کے آستانے پر بھی بی بی بہ عقیدت جایا کرتی تھیں۔
18 اکتوبر 2007 کے بعد بی بی نے جب سندھ کا انتخابی دورہ کیا تو ایک تصویر بہت مشہور ہوئی جس میں بی بی قنبر کے حسین شاہ کے سامنے فرش پر بیٹھی ہیں اور حسین شاہ کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ یہ تصویر بی بی کے تو کام نہ آئی البتہ حسین شاہ کا روحانی سکہ چل نکلا۔ اس تصویر کا پس منظر یوں بتایا جاتا ہے کہ بی بی کو پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما خورشید جونیجو پیر صاحب کے پاس لے گئے مگر پیر صاحب نے عذر کیا کہ وہ گھٹنوں کی تکلیف کے سبب اٹھ کے استقبال نہیں کر سکیں گے۔ سادہ مزاج بی بی نے یقین کر لیا اور عقیدت میں قالین پر ہی بیٹھ گئیں۔ بعد ازاں جب ممتاز بھٹو پیر صاحب کے پاس آئے تو ان کا گھٹنوں کا درد فرار ہو گیا اور وہ ممتاز بھٹو سے تیر کی طرح سیدھے ملے۔
ایک واقعہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جب بی بی اور آصف زرداری نے امریکہ کا پہلا سرکاری دورہ کیا تو وائٹ ہاؤس آنے والے پاکستانی وفد میں ایک مختلف حلیے کے پراسرار بزرگ بھی شامل تھے۔ وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی انھیں دیکھ کے چکرا گئی (اس وفد میں دیگر کے علاوہ صحافی نجم سیٹھی بھی شامل تھے)۔
میاں نواز شریف کا معاملہ یوں ہے کہ ان کی نہ کسی آرمی چیف سے بنی نہ ہی کسی بزرگ سے۔ چھڑی بابا سے ان کی عقیدت مندی کا ذکر ہو چکا۔ مگر 1980 کی دہائی میں شریف خاندان پر سب سے زیادہ روحانی اثر علامہ طاہر القادری کا تھا۔ میاں محمد شریف بھی جواں سال طاہر القادری کے معتقد تھے اور نواز و شہباز شریف بھی حلقہِ اثر میں تھے۔ ایک وڈیو آج بھی یو ٹیوب پر دیکھی جا سکتی ہے جس میں نواز شریف سر پر رومال باندھے نہائیت عقیدت کے ساتھ طاہر القادری کی پلیٹ میں ادلے کی بوٹی ڈال رہے ہیں۔ طاہرالقادری کا دعویٰ ہے کہ میاں صاحب نے اھہیں کندھے پر بٹھا کر خانہ کعبہ کا طواف بھی کروایا۔ اس کے بعد سے اب تک کیا ہوا، یہ بتانا ضروری تو نہیں۔
ضیا الحق تو بذاتِ خود پیرِ کامل تھے اور مرشد ان کا تکیہ کلام بھی تھا جو کم ازکم جنرل فیض علی چشتی کے کسی کام نہ آیا۔ مگر ایبٹ آباد کے ایک بزرگ بابا غلام النصیر چلاسی کے پاس ضیا الحق بہ عقیدت حاضری دیتے تھے۔ دیگر عقیدت مندوں میں اعجاز الحق، حمید گل، سردار مہتاب خان عباسی اور سردار فاروق لغاری بھی شامل تھے۔ نیز مولانا فضل الرحمان کو بھی ان سے خاصی عقیدت ہے۔ بلکہ مولانا صاحب میانوالی میں کندیاں شریف کے خواجہ خان محمد کے ہاں بھی حاضری دیتے رہے ہیں۔حالانکہ مولانا خود بھی صاحبِ حلقہ اور صاحبِ دین و دنیا ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کا کوئی مرشد تھا۔ اس کی گواہی نہیں ملتی۔ البتہ بھٹو صاحب شہباز قلندر کے معتقد تھے اور اکثر سیہون حاضری دیتے تھے۔ انھوں نے ہی قلندر کے مزار پر سونے کے پانی کا دروازہ بھی لگوایا اور سیاست میں دما دم مست قلندر کی اصطلاح متعارف کروائی۔ جب بھٹو صاحب کال کوٹھڑی میں تھے تو ان کی پہلی اہلیہ امیر بیگم ٹرین کی بوگی بھر کے خواتین کے ساتھ سیہون پہنچیں مگر۔۔۔۔۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جنھیں کروڑوں عوام مرکزِ امید سمجھتے ہیں ان کا اپنا مرکزِ امید کہیں اور ہوتا ہے۔
BBC-