سائنسدانوں نے دریافت کیا موٹاپے کا نیا علاج
دماغ میں موجو ایسے خلیات دریافت کیے گئے ہیں جو بھوک کے احساس پر قابو پانے کیلئے مدد گارثابت ہو سکتے ہیں اور یہ پیش رفت موٹاپے کے نئے علاجوں کی جانب لے جاسکتی ہے۔
تحقیق سے اس بات میں مزید وزن آگیا کہ کھانا حیران کن طور پر ایک پیچیدہ حیاتیاتی رویہ ہے۔
ایک جرنل سیل میں شائع ہونے والی تحقیق میں ایلگزینڈرنیکٹو کا کہنا تھا کہ'ہم نے دماغ میں دو ایسے خلیات شناخت کیے ہیں جو بھوک کو قابو کرتے ہیں۔'
برین اسٹیم کا وہ حصہ جو زیرِ نظر تھا ڈورسل راف نیوکلس (ڈی آر این )ہے،جہاں وہ دو قسم کے خلیے پائے جاتے ہیں۔
خیال یہ کیا جارہا ہے کہ بھوک کو قابو کرکے موٹاپے کے علاج کیلئے ان خلیوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
پرنسٹن یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ ریسرچ اسکالر ڈاکٹر نیکٹو نے دیکھا کہ بھوکے چوہے میں دماغ کا ڈی آر این حصہ فعال ہوگیا۔
دیگر چوہوں کی تصاویر میں ، جنہیں ان کی عام غذا سے زیادہ خوراک دی گئی تھی ان کے ڈی این آر ایکٹیوٹی مختلف تھی ۔ جس سے یہ واضح طور پر معلوم ہوا کہ دماغ کے اس حصہ کے نیورونز کا بھوک کے رویہ میں عمل دخل ہے۔
اس عمل میں شامل وہ کونسے نیورونز ہیں جو ڈی آر این بناتے ہیں ، اس کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
Independentبشکریہ