وہ موجد جنہیں اپنی ایجادات پر شرمندگی ہوئی
دوسو برسوں میں جو سائنس کی دنیا نے ترقی کی وہ تاریخ ِ انسانی میں پہلے کبھی نہیں دیکھنے کو نہیں ملتی۔سائنسی ایجادات نے جہاں انسانوں کو بہت سہولیات سے نوازا وہیں ان کے مؤجدوں نے ان میں موجود خرافات دیکھ کر اس پر شرمندگی کا اظہار بھی کیا۔
ہم آپ کو بتاتے ہیں ایسے آٹھ موجدوں کے متعلق جنہیں اپنی کی گئی ایجاد پر شرمندگی ہوئی۔
وکٹر گروئین: شاپنگ مال
مال کو در حقیقت دو مربعوں میں دوکانوں اور اسکولوں کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ان کی حالیہ شکل سے گروئینکو شدید نفرت تھی۔
جان سِلوان: کے کپ
دس ارب کے کپ جو نہ گَل سکتے ہیں نہ سڑ سکتے ہیں، زمین دوز کردیے جاتےہیں۔ اس کے سبب سِلون کو شرمندگی محسوس ہوتی ہوگی۔
اوروِل رائٹ: ہوائی جہاز کا معاون موجد
رائٹ نے ہوائی جہاز کو بطور ہتھیار نہیں سوچا تھا۔ ہوائی جہاز نے جو کردار دونوں جنگِ عظیموں میں ادا کیا اس نے رائٹ کو خوفزدہ کر دیا۔
فِلو فارنزورتھ: ٹیلی ویژن
در اصل ٹیلی ویژن کامقصد تعلیمی تھا لیکن فارنزورتھ نے اِسے وقت ضائع کرنے والا آلہ پایا۔
اینا جاروِز: مدرز ڈے
نیک نیتی پر مبنی اور ماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے اس طریقہ کار کی خطرناک کمرشلائزیشن ہوجانے نے جاروِز کو آگ بگولہ کردیا۔
میخائل کلاشنکوف: اے کے 47
اے کے 47 کے سبب سالانہ ڈھائی لاکھ لوگ مارے جاتے ہیں۔ مرنے سے قبل کلاشنکوف نے لکھا کہ اس سب کا ذمہ دار وہ خود کو محسوس کرتا ہے۔
جے روبرٹ اوپنہیمر: آیٹم بم
ہینری ٹرومین سے 1945میں بات کرتے ہوئے اوپنہیمر نے اعتراف کیا کہ 'صدر صاحب مجھے اپنے ہاتھوں میں خون محسوس ہوتا ہے۔'
الفریڈ نوبل: ڈائنامائیٹ
نوبل نے امن انعام جس میں ان کا نام آتا ہے، اپنی مہلک ترین ایجاد، ڈائنامائیٹ ، کے احساس جرم کے نتیجے میں بنایا۔
Did You Know :بشکریہ فیس بک پیج