پاکستانی میسج والی صبا کا برطانیہ میں وہی کاروبار

شائع 05 اکتوبر 2017 04:36am

لندن: پاکستان میں موبائل فونز کے زریعے فراڈ اور دھوکہ دہی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ شاید ہی کوئی پاکستانی ہو جس کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں پیسے نہ نکلے ہوں۔ یعنی انہیں ایسا کوئی پیغام موصول نہ ہوا ہو۔

اور موبائل فون والی صبا کو تو سب جانتے ہی ہیں جو میسیجز کے زریعے لوگوں سے پیسوں کا تقاضہ کرتی ہے۔ کچھ لوگ معصومی میں اور کچھ گھر بسانے کے سپنے سجا کر اس جھانسے میں آ بھی جاتے ہیں۔

لیکن یہ فراڈ پاکستان تک محدود نہیں رہا، برطانیہ میں صبا کی ایک بہن بھی موجود ہے جو سارہ کے نام سے یہ کاروبار چلا رہی ہے۔

غیر ملکی جریدے 'دی مرر' کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں لوگوں کو سارہ نامی لڑکی کی جانب سے میسیجز موصول ہو رہے ہیں، جن میں مختلف مجبوریوں کا ذکر کر کے 20 پاؤنڈز کا تقاضہ کیا جاتا ہے یا پھر موبائل کارڈ کا کوڈ نمبر مانگا جاتا ہے۔

ایک مرتبہ پیسے اور کارڈ نمبر موصول ہونے کے بعد دوبارہ رابطہ کئے جانے پر کوئی جواب موصول نہیں ہوتا۔

پاکستان کے بعد اب یہ دھوکے بازی کا کاروبار برطانیہ میں پروان چڑھ چکا ہے۔

Read Comments