اونٹنی کا دودھ غذا بھی ، شفابھی ، سنت بھی

شائع 19 دسمبر 2017 01:15pm

بعض لوگ  دودھ سے الرجی کا شکار ہوجاتے ہیں ، ایسے افراد کو لیکٹوس انٹولرنٹ قرار دیا جاتا ہے ۔لیکٹوس گلوبن دودھ میں موجود ایک جز ہے جس سے بعض لوگ الرجی کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کو دودھ ہضم نہیں ہوپاتا اور یہ لوگ قے، الرجی، یا پھر پیچس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس صورت میں اسکا متبادل اونٹنی کا دودھ موجود ہے۔ اور یہ نہ صرف مصنوعی سپلیمنٹ سے کئی درجہ بہتر ہے بلکہ کئی لحاظ سے صحت بخش بھی ہے۔

قرآن شریف میں بھی کئی مقامات پر اونٹ کی اہمیت کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی اونٹ کا دودھ نہایت شوق سے استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ افراد جو کہ صحرا میں مقیم ہیں یا پھر صحرا میں رہائش رکھتے ہیں، ان کیلئے اونٹ کا دودھ کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

اونٹ ایک ایسا جانور ہے جو کہ صحرا کے سخت ترین موسم میں بھی کھائے پیے بغیر گزارا کرتا ہے اور اس کے دودھ کی صلاحیت بھی کئی گناہ بڑھ جاتی ہے۔ خشک سالی کے دوران بھی اسکے دودھ میں حیرت انگیز طور پر ایسی کیمیائی تبدیلی پیدا ہوتی ہے جس سے اس کے غذائی فوائد میں بھی کئی گناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ ذیل میں اسکے چند فوائد بیان کیے گئے ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کیلئے اونٹنی کا دودھ

ذیابیطس کے مریضوں میں انسولین کم مقدار میں تشکیل پاتا ہے،  جس کی وجہ سے ان مریضوں کو عام طور پریہ دوائی کی صورت میں لینا پڑتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کیلئے اونٹنی کا دودھ کسی نعمت سے کم نہیں ہے کیونکہ اس میں یہ قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے اگر ذیابیطس کے مریضوں کو یہ پلایا جائے تو یہ ان کیلئے شافی علاج ہے۔

یرقان اور جگر کیلئے فائدے مند

اونٹنی کا دودھ یرقان اور جگر کے کینسر میں بھی کافی مفید ہے ۔ اونٹنی کے دودھ میں نیوٹرسیوٹیکل اجزاء میں لیکٹوفران ہیں اور یہ یرقان کے مریضوں کیلئے انتہائی مفید قرار دیئے جاتے ہیں۔ یرقان اورجگر کے کینسر کی صورت میں بھی جگر سست روی کا شکار ہوجاتا ہے ایسے میں اونٹنی کا دودھ اسکا فعال کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

اونٹنی کا دودھ دل کے مریضوں کیلئے معاون

اونٹنی کا دودھ دل کے مریضوں کیلئے بھی انتہائی معاون شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں کولیسٹرول کی ایک مخصوص مقدار پائی جاتی ہے جو کہ دل کے مرض کا شکار افراد کیلئے انتہائی مفید ہے۔

اونٹنے کا دودھ قبض کشا

اونٹنی کا دودھ قبض کشا بھی ہے اور اسکے استعمال سے قبض کا شکار افراد کو کافی فائدہ پہنچتا ہے ۔

Read Comments