Aaj Logo

شائع 17 اگست 2019 08:42am

سردرد کی گولی کھانے کا خطرناک نقصان

سردرد کی گولی جسے عرف عام میں اسپرین کہا جاتا ہے ہر گھر میں موجود ہوتی ہے۔ لوگ اسے ہارٹ اٹیک اور دل کی بیماریوں سے بچنے کیلئے پیشگی اقدام کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ خون کو پتلا کرتی ہے۔

تاہم اب سائنس دانوں نے اس گولی کے بے جا استعمال کا ایک انتہائی خوفناک نقصان بتا دیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق ادھیڑ عمری میں جو لوگ روزانہ اسپرین کی گولی کھاتے ہیں انہیں یہ گولی فائدے سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے، کیونکہ اس سے ان کے جسم کے اندر خون بہنے (Internal bleeding) کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جو ہارٹ اٹیک سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔

کنگز کالج لندن کے سائنس دانوں نے اس تحقیق میں 1 لاکھ 60 ہزار لوگوں کا طبی ڈیٹا حاصل کیا اور ان کے اسپرین کھانے کے معمول کے ساتھ اس کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کئے، جن سے معلوم ہوا کہ ادھیڑ عمر کے ایسے لوگ جو دل کی بیماریوں سے بچنے کیلئے پیشگی اقدام کے طور پر اسپرین کھاتے تھے ان میں غالب اکثریت اندرونی بلیڈنگ کے خطرے سے دوچار تھی۔

اسپرین کھانے کی وجہ سے ان لوگوں کو ہارٹ اٹیک یا اسٹروک ہونے کا امکان 11 فیصد کم تھا لیکن دوسری طرف ان کے جسم کے اندر خون بہنے کے خطرے میں 43 فیصد اضافہ ہو چکا تھا۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سین ژینگ کا کہنا تھا کہ ہم نے جتنے لوگوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا ان میں روزانہ ایک گولی اسپرین کھانے والے ہر 210 افراد میں سے ایک کو اندرونی بلیڈنگ شروع ہوچکی تھی۔ صحت مند لوگوں کیلئے اس گولی کا نقصان فائدے سے کہیں زیادہ ہے، لہٰذا بلا وجہ اس کا استعمال نہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔

Read Comments