پاکستان چاہے تو افغان جنگ فوری ختم ہو سکتی ہے: امریکی سینیٹر

شائع 11 دسمبر 2019 04:45am

اسلام آباد: امریکی کانگریس کے رکن سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کو طالبان کے بجائے پاکستان سے بات چیت شروع کرنی چاہیے۔

امریکی نشریاتی ادارے 'فاکس نیوز' کو دیے گئے انٹرویو میں لنزے گراہم نے کہا "ہم معاملے کا ادراک نہیں کر سکے، میرے خیال میں طالبان کے بجائے ہمیں پاکستان سے بات چیت شروع کرنی چاہیے۔"

اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لنزے گراہم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ایسا آزادانہ تجارتی معاہدہ ہونا چاہیے جو سیکیورٹی امور پر پاکستان کی کارکردگی سے مشروط ہو۔ جس سے پاکستان اپنا طرز عمل تبدیل کرے۔ اس کے بعد طالبان سے بات ہونی چاہیے۔

لنزے گراہم نے کہا "میں جنگ ختم کرانے کے لیے طالبان پر جتنا ممکن ہو سکے دباؤ برقرار رکھنے کا خواہاں ہوں۔"

یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان رواں سال ستمبر میں معطل ہونے والی بات چیت ہفتے کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہو گئی ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات چیت رواں سال ستمبر میں اس وقت معطل کر دی تھی جب فریقین امن معاہدے کے قریب تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ امریکی سینیٹر نے افغان امن عمل میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اشارتاً بات کی ہے۔

شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان طالبان کی طرف سے بات چیت نہیں کر سکتا۔ لہذٰا سینیٹر لنزے کے بیان میں کسی حد تک مبالغہ آرائی کا عنصر بھی شامل ہے۔

شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی سینیٹر کے بیان میں کچھ مبالغہ آرائی ہے تاہم امریکی سینیٹر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ افغان عمل میں سہولت کار کے طور پر پاکستان کی اہمیت مسلمہ ہے۔ درحقیقت وہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان کی شمولیت کے بغیر امن عمل میں پیش رفت نہیں ہو سکتی۔

سابق سیکریٹری خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے طور پر افغان امن عمل میں ہر ممکن کردار ادا کیا ہے۔ جسے وہ مستقبل میں جاری رکھے گا۔

افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اگرچہ لنزے گراہم سینیٹر اور صدر ٹرمپ کے قریب سمجھتے جاتے ہیں۔ لیکن یہ تاثر درست نہیں کہ طالبان پر پاکستان کا اثر و رسوخ فیصلہ کن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب طالبان کے قطر، روس اور چین کے علاوہ بھی کئی ممالک کے ساتھ تعلقات استوار ہو چکے ہیں۔

رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ افغان قضیے کے اصل فریقین طالبان، افغان حکومت اور امریکا ہیں۔ جب تک ان تینوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوتا معاملہ حل نہیں ہو گا۔

Read Comments