Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے دادو میں تہرے قتل کے ملزمان کی عدم گرفتاری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سندھ پولیس مفرورملزمان کو پکڑنے کے لیے 2سال میں کچھ نہ کرسکی،پولیس میں صلاحیت ہے بس آزادانہ کام کرنا ہوگا۔
جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے دادومیں تہرے قتل کے ملزمان کی عدم گرفتاری سے متعلق کیس پرسماعت کی۔
دوران سماعت عدالت نے ملزمان غلام مرتضی اورذوالفقارچانڈیوکی عدم گرفتاری پربرہمی کا اظہارکیا۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سندھ پولیس مفرور ملزمان کو پکڑنے کے لیے 2 سال میں کچھ نہ کرسکی، بااثرملزمان ہونے کے باعث ہرمرتبہ پولیس کی ایک جیسی رپورٹ ہی آجاتی ہے،ملزمان گرفتارنہ ہوئے توسپریم کورٹ سے کیس کا خاتمہ نہیں ہوگا ۔
جسٹس فیصل عرب نے استفسارکیا کہ کیا وجہ ہے پولیس کیوں ملزمان کو پکڑنہیں رہی ؟، جس پرڈی آئی جی سکھرنے بتایا کہ پولیس چھاپے مار رہی ہے،ممکن ہے کہ ملزمان بلوچستان میں ہوں جلد گرفتار کرلیں گے ،7نامزد ملزمان میں سے 5 کوگرفتارکرچکے ہیں۔
وکیل فیصل صدیقی نے 2نامزد ملزمان میں سے ایک کوپولیس نے بری کرنے کا مؤقف اپنایا توجسٹس عمرعطا ءبندیال نے کہا کہ پولیس کی کارکردگی پرہم مایوس ہیں، پولیس میں صلاحیت ہے بس آزادانہ کام کرنا ہوگا،اب کیس کوعدالت میں سنیں گے رپورٹس نہیں مانگیں گے۔
سپریم کورٹ نے پولیس کوملزمان کی گرفتاری کے لیے 6ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے سماعت مارچ کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔