سویڈن میں قرآن پاک کی ایک بار پھر بے حرمتی، عراق نے سفیر نکال دیا

بغداد میں صبح سویرے سیکڑوں مشتعل مظاہرین نے دھاوا بول کر سویڈن کا سفارت خانہ جلا دیا تھا
اپ ڈیٹ 21 جولائ 2023 08:41am

سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم میں حال ہی میں قرآن کو نذر آتش کرنے کے معاملے پر سفارتی تنازع شدت اختیار کرگیا جس کے پیش نظر عراقی حکومت نے بغداد میں سویڈن کے سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

سویڈن میں رہنے والے ایک شہری سلوان مومیکا کی جانب سے ایک بار پھر قرآن کی بے حرمتی کرتے ہوئےعراقی پرچم کی تذلیل کی گئی ہے۔

سویڈن میں پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دیئے جانے پرعراقی دارالحکومت بغداد میں صبح سویرے سیکڑوں مشتعل مظاہرین نے دھاوا بول کر سویڈن کا سفارت خانہ جلا دیا تھا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں جمعرات کوعلی الصبح سفارت خانے کے کمپاؤنڈ میں مظاہرین کو جھنڈے اورعراقی شیعہ مذہبی اور سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر کی تصویر والے کارڈز لہراتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔

اس واقعے پر سویڈش وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سفارت خانے اور سفارتی عملے کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری عراقی حکومت پرعائد ہوتی ہے۔

عراقی حکومت نے 20 مظاہرین کو گرفتار کیا تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر قرآن پاک کی بے حرمتی ہوئی تو سفارتی تعلقات توڑ لیے جائیں گے۔ جب سوئیڈش حکومت نے قرآن پاک کی بے حرمتی نہیں روکی تو عراق نے سویڈش سفیر نکال دیا۔

سوئیڈن میں عراقی سفیر کو بھی واپس بلایا جا رہا ہے۔

قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والا شخص کون ہے؟

قرآن پاک کی متعدد بار بے حرمتی کرنے والے شخص کا نام سلوان مومیکا ہے، جوعراق کے صوبے موصل کے ضلع الحمدانیہ سے تعلق رکھتا ہے۔

سلوان نے سویڈن میں پناہ حاصل کرنے سے قبل عراقی شہر نینوا میں ملیشیا کی سربراہی بھی کرچکا ہے۔ یہ شخص دھوکا دہی سمیت متعدد کیسز میں عراق کو مطلوب ہے۔

سلوان کئی سال قبل سویڈن فرار ہو گیا تھا اور اس کی حوالگی سے متعلق عراقی حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر سویڈش حکومت سے درخواست بھی کی گئی ہے

لیکن تاحال سویڈن کی حکومت کی جانب سے سلوان کو عراقی حکومت کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔

Read Comments