اپ ڈیٹ 11 جنوری 2026 12:03am

سندھ حکومت کے سخت مؤقف کے بعد پی ٹی آئی کا باغِ جناح میں جلسہ کرنے کا فیصلہ

سندھ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے جلسے کے لئے باغ جناح کا نوٹی فکیشن جاری کرنے اور سڑک پر جلسے نہ کرنے کی وارننگ کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف نے کراچی میں اپنا جلسہ باغِ جناح میں ہی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس سے قبل رہنما پی ٹی آئی راجہ اظہر کا کہنا تھا کہ جلسے کا این او سی دیر سے جاری ہونے کے باعث پارٹی نے مزار قائد کے گیٹ پر جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رہنما پاکستان تحریکِ انصاف راجہ اظہر کا کہنا تھا کہ انھیں سندھ حکومت کی جانب سے کوئی این او سی نہیں دیا گیا، میڈیا پر لیٹر گردش کر رہا ہے لیکن مجھے نہیں ملا، اگر لیٹر صحیح بھی ہے تو اب انتظامات کا وقت نہیں رہا، سندھ حکومت نے ہمارے ساتھ دو روزاچھا برتاؤ رکھا۔

مزارِ قائد کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے باغ جناح میں جلسہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، باغ جناح سے کرسیاں اور دیگر سامان اٹھایا جارہا ہے۔ جلسہ مزار قائد کے گیٹ پر ہوگا۔

بعدازاں، سندھ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے جلسے کے لئے باغ جناح کا نوٹی فکیشن جاری کرنے اور سڑک پر جلسہ نہ کرنے کی وارننگ کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف نے کراچی میں اپنا جلسہ باغِ جناح میں ہی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے پی ٹی آئی کے مؤقف پر سخت ردِ عمل سامنے آیا، سندھ کے وزیرداخلہ ضیاء لنجار نے کہا کہ کسی بھی سڑک پر جلسہ ہوا تو حکومت سخت ایکشن لے گی، حکومت ابھی تک پی ٹی آئی سے تعاون کر رہی ہے، حکومت کی رٹ کو چیلنج نہیں کرنے دیں گے۔

وزیربلدیات سندھ ناصرشاہ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسے کی اجازت ہے، جلسہ باغ جناح میں ہی کر سکتے ہیں، سڑک پر جلسہ کی بات کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں، پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسہ کرنا ہوگا۔

ناصرحسین شاہ نے مزید کہا کہ باغ جناح کا مطالبہ پی ٹی آئی نے خود کیا تھا، باغ جناح وفاق کے پاس ہے، اجازت نامے میں تاخیر ہوئی، پی ٹی آئی کو جو بھی سپورٹ چاہئے ہم تیار ہیں، سڑک پر جلسہ کرنا مناسب نہیں ہوگا، سڑک پر جلسہ عوام کے لئے تکلیف کا باعث ہوگا۔

وزیراطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ این او سی جب دے دیا گیا ہے تو گراؤنڈ میں جلسہ کریں، مزارقائد کا تقدس پامال کرنے کی کسی کواجازت نہیں دینگے، ہم جلسے کے لیے انتظامات بھی کرسکتے ہیں، ہم گراؤنڈ بھرنے کیلئے بندے بھی دے دیں گے، لیکن سڑک پر جلسے کی کسی کو اجازت نہیں۔

قبل ازیں باغِ جناح گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دینے کے بعد شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ قانون اور امن کی مکمل ذمہ داری منتظمین پرعائد ہوگی، جلسے کے دوارن اشتعال انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ گفتگوکی اجازت نہیں، نہ ہی پاکستان، ریاستی اداروں کے خلاف تقریرکی اجازت ہوگی۔

انھوں نے واضح کیا تھا کہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا منتظمین کی ذمہ داری ہے، پروگرام مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنا لازم ہوگا، سیکیورٹی وجوہات پر اجازت منسوخی کا اختیار ضلعی انتظامیہ کے پاس ہوگا۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو کراچی کے باغِ جناح گراؤنڈ میں جلسے کی باضابطہ اجازت دے دی۔ جلسے کی اجازت 26 نکات پر مشروط ہے اور یہ پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد کے نام جاری کی گئی ہے۔

شرائط و ضوابط کے مطابق کوئی بھی مقرر نظریہ پاکستان یا ریاست کی سیاست کے خلاف کوئی تقریر نہیں کرے گا۔ افواج پاکستان، برادریوں میں نفرت، انتہا پسندی جیسی کوئی تقریرنہیں ہوگی۔

شرائط میں واضح کیا گیا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ چیکنگ کرکے پنڈال کو منتظمین کے حوالے کرے گا۔ جلسے کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ تقریب کے آغاز سے ختم ہونے تک کی جائے گی۔ آرگنائزر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ویڈیو سی ڈی کو اگلے دن متعلقہ اداروں کو جمع کرائے۔

این او سی کے مطابق جلسے کا پروگرام شام آٹھ بجے سے رات بارہ بجے تک جاری رہے گا۔ جلسے کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا اور پروگرام مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنا منتظمین کی ذمہ داری ہوگی۔

انتظامیہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ شرائط اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ جلسہ پرسکون انداز میں مکمل ہو اور عوامی نظم و ضبط برقرار رہے۔

Read Comments