اپ ڈیٹ 12 جنوری 2026 06:25pm

ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر بم حملہ، 7 اہلکار شہید

خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر بم حملے میں 2 ایف سی اہلکاروں اور ایس ایچ او اسحاق احمد سمیت 7 اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔

پیر کو خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں ٹانک، لکی مروت اور بنوں میں دہشت گردی کے مختلف واقعات پیش آئے ہیں۔

ٹانک میں تھانہ گومل کی حدود میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب زور دار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں تھانہ گومل کے ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہلکار اور 2 ایف سی اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔

شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت ایس ایچ او اسحاق احمد خان، ایس آئی شیر اسلم خان، ڈرائیور عبدالجمید، حضرت علی اور احسان اللہ جب کہ 2 ایف سی اہلکار ارشد علی اور اللہ خان شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب پولیس کی گاڑی معمول کے گشت پر تھی۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

شہید اہلکاروں کے جسد خاکی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ٹانک منتقل کر دیے گئے ہیں۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری اوروزیراعظم شہباز شریف نے ٹانک میں دہشت گرد حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ وافسوس کا اظہارکیا ہے۔

وزیراعظم نے واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے ذمہ دار دہشت گردوں کو جلد از جلد ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

صدر آصف زرداری نے شہید پولیس اہلکاروں کی بہادری اور وطن کی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی، دہشت گرد قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد اورسیکیورٹی فورسزکے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس فورس پر حملوں سے امن دشمن اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکار فرنٹ لائن پر قربانیاں دے رہے ہیں۔ صوبائی حکومت پولیس کے ساتھ کھڑی ہے، شہدا کے لواحقین کی ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف خیبرپختونخوا پولیس فرنٹ لائن پر مقابلہ کر رہی ہے، قیام امن کیلئے پولیس شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور دیگروزرا نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہارکیا ہے۔

دوسری جانب لکی مروت میں بھی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں تھانہ صدر کی حدود میں درہ تنگ کے مقام پر آئی ای ڈی دھماکا ہوا۔

پولیس کے مطابق دھماکا پل کے قریب نصب بارودی مواد سے کیا گیا، جس میں ایس ایچ او تھانہ صدر رازق خان سمیت تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسی راستے سے ڈی پی او لکی مروت کو چوکیوں کے دورے کے لیے گزرنا تھا، جبکہ ایک روز قبل اسی مقام سے ایک وکیل کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا بھی کیا تھا، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے۔

اس سے قبل ضلع بنوں میں نالہ کاشو پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی، تاہم پولیس کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کے باعث یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے دو اطراف سے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی، لیکن چوکی پر تعینات اہلکاروں نے فوری طور پر مورچے سنبھال لیے اور بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کر دیا۔ واقعے میں پولیس کے تمام اہلکار محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں یاسر آفریدی نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں پولیس فورس کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بنوں پولیس علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

Read Comments