شائع 15 جنوری 2026 03:07pm

یوٹیوبر نے کوکا کولا بنانے کا 140 سال پرانا راز دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا

کوکا کولا دنیا بھر میں مشہور ترین مشروب ہے۔ گرمی کے موسم میں یا خوشی کے موقع پر لوگ اسے تازگی اور لطف کے لیے پیتے ہیں۔ اس کی مقبولیت نہ صرف ذائقے کی وجہ سے بلکہ اس کے منفرد انداز اور پہچان کی وجہ سے بھی ہے۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا نسخہ صدیوں سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ یہی خفیہ ترکیب اسے عام سافٹ ڈرنکس سے ممتاز کرتی ہے اور اسے دنیا بھر میں ایک خاص مقام عطا کرتی ہے۔

کوکا کولا کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ہر روز دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں اس کے تقریباً 2.2 ارب گلاس پیے جاتے ہیں۔ اس عالمی کامیابی کے پیچھے ایک ایسا فارمولا ہے جسے 140 برس سے سخت راز میں رکھا گیا ہے۔

اس مشروب کے اجزا کی فہرست پر نظر ڈالیں تو اس میں چینی، کیفین، سوڈیم اور قدرتی ذائقے درج ہوتے ہیں، مگر یہی قدرتی ذائقے اصل راز سمجھے جاتے ہیں۔ برسوں سے لوگ اس ذائقے کو نقل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن اب ایک یوٹیوبر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس راز کے کافی قریب پہنچ چکا ہے۔

یہ دعویٰ لیب کوٹس نامی یوٹیوب چینل کے بانی نے کیا ہے، جو سائنس اور انجینئرنگ پر مبنی ویڈیوز بناتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے تقریباً ایک سال تک تحقیق کی، مختلف اجزا پر تجربات کیے اور کئی بار آزمائش کے بعد ایسا مشروب تیار کیا جو ذائقے میں کوکا کولا سے بہت ملتا جلتا ہے۔

کوکا کولا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسے 1886 میں ڈاکٹر جان ایس پیمبرٹن نے ایجاد کیا تھا۔ انہوں نے اس کا نسخہ صرف زبانی طور پر چند لوگوں کو بتایا۔ بعد ازاں 1892 میں آسا کینڈلر نے اس کاروبار کے حقوق حاصل کیے۔

1919 میں ارنسٹ وُڈرف اور ان کے ساتھیوں نے کمپنی خریدی اور نسخہ لکھوا کر نیویارک کے ایک بینک کے لاکر میں محفوظ کر دیا۔ بعد میں یہ نسخہ اٹلانٹا منتقل ہوا اور کئی دہائیوں تک سخت نگرانی میں رکھا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی لیے کمپنی نے کبھی اس فارمولے کا پیٹنٹ نہیں کروایا، کیونکہ ایسا کرنے سے راز ظاہر ہو جاتا۔

حال ہی میں یو ٹیوب لیب کوٹز کے بانی نے ”پرفیکٹلی ریپلیکیٹنگ کوکا کولا (اٹ ٹُک می اے اِئر)“ کے عنوان سے ایک ویڈیو جاری کی، جسے چند ہی دنوں میں لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔

ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ کوکا کولا ایک بہت بڑا برانڈ ہے اور اس کا اصل فارمولا چند ہی لوگوں کو معلوم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اصل نسخہ مکمل طور پر نقل کرنے کا دعویٰ نہیں کر رہے، بلکہ اصل ذائقے کے قریب پہنچنا ان کا مقصد تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک لیٹر کوکا کولا میں تقریباً 110 گرام چینی، 96 ملی گرام کیفین، فاسفورک ایسڈ اور رنگ شامل ہوتا ہے، مگر اصل الجھن قدرتی ذائقوں کو سمجھنے میں تھی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دارچینی، نارنجی، لونگ اور کالی مرچ سمیت مختلف تیلوں پر تجربات کیے۔

انہوں نے انٹرنیٹ پر موجود پرانے نسخوں کو بھی آزمایا، جن میں پیمبرٹن کا ابتدائی فارمولا بھی شامل تھا۔

بالآخر ان کے مطابق چائے اور مختلف مشروب میں پائے جانے والے ٹیننز نے انہیں اصل ذائقے کے قریب پہنچایا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اجزا مٹھاس کو متوازن کرتے ہیں اور ذائقے میں ایک ہلکا سا کھنچاؤ پیدا کرتے ہیں، جو کوکا کولا کی خاص پہچان ہے۔

انہوں نے اپنے تیار کردہ مشروب کو ”لیب-کولا“ کا نام دیا اور دوستوں سمیت مختلف لوگوں کو چکھایا۔ ان کے بقول زیادہ تر لوگوں کی رائے یہ تھی کہ اسے اصل کوکا کولا سمجھا جا سکتا ہے۔

یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر اس وقت بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اگرچہ کوکا کولا کمپنی کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، مگر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی سائنس اور مسلسل تجربات کے ذریعے ڈیڑھ صدی پرانا راز سمجھا جا سکتا ہے؟

شاید اصل جواب وقت کے ساتھ سامنے آئے، لیکن یہ کوشش اس بات کی یاد دہانی ضرور ہے کہ انسان کی جستجو اور تجسس کبھی ختم نہیں ہوتا۔

Read Comments