رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر پارٹی کو اعتماد میں نہ لینے کا تاثر مسترد کردیا
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر پارٹی کو اعتماد میں نہ لینے کا تاثر مسترد کردیا اور کہا ہے کہ محمود اچکزئی ہمارے مشکل وقت کے ساتھی رہے، ان کے حوالے سے نوازشریف کے مثبت خیالات ہیں، عمران خان مذاکرات پر تیار نہیں، یقین ہے 8 فروری کی کال ناکام ہوگی، جس کے بعد ان لوگوں کو پارلیمان میں آنا چاہیے۔
جمعے کو جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ محمود اچکزئی اور نواز شریف کے رابطے کا انہیں علم نہیں، محمود اچکزئی ہمارے مشکل وقت کے ساتھی رہے ہیں، ان کے حوالے سے نوازشریف کے مثبت خیالات ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہونہیں سکتا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں نہ لیا ہو، محمود اچکزئی اور پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں سے رابطہ رہتا ہے، ان کے خیالات یہی ہیں کہ راستہ مذاکرات سے ہی نکلے گا، پی ٹی آئی میں ایک ایسا گروپ بھی ہے جسے ہم کلٹ کہتے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ڈائیلاگ کے حق میں نہیں، پی ٹی آئی والے جب ملتے ہیں تو کہتے ہیں بانی پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے لیے جس قسم کی تیاریاں اور تقاریر ہورہی ہیں، لگتا ہے کہ 8 فروری کی کال واپس نہیں لیں گے، ہمیں یقین ہے کہ 8 فروری کی کال ناکام ہوگی، یہ لوگ اس کے بعد پارلیمان میں آئیں اور بھرپور کردار ادا کریں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ آج ہم نے بہتر اور مثبت اقدام کیا ہے، پی ٹی آئی بھی مثبت اقدامات کرے، اس طرح اعتمادی سازی ہوتی ہے، اگلے ہفتے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا پراسس شروع ہوجائے گا۔