اپ ڈیٹ 19 جنوری 2026 01:58pm

گُل پلازہ آتشزدگی: ایران، فرانس اور برطانیہ کا دکھ کا اظہار

کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی آتشزدگی پر ایران، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے المناک واقعے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں رضا امیری مقدم نے کہا کہ کراچی سانحے میں کم از کم چودہ پاکستانی بہن بھائیوں کی قیمتی جانیں گئیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے دلی خیالات اور دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اس دلخراش سانحے میں اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ میں تمام زخمیوں کی محفوظ اور جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ان ریسکیو ٹیموں اور پولیس فورسز کی طاقت، کامیابی اور تحفظ کے لیے بھی دعا کرتا ہوں جو اس مشکل وقت میں اپنے فرائض حوصلے سے نبھا رہے ہیں۔

ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بیان میں کہا کہ میرے دلی خیالات اور دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اس دلخراش سانحے میں اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ میں تمام زخمیوں کی محفوظ اور جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔

فرانس نے بھی گل پلازہ میں آگ لگنے پر دکھ کا اظہار کیا۔ فرانسیسی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فرانس کراچی میں ہونے والے المناک آتشزدگی کے واقعے میں کئی قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔

پیغام میں کہا گیا کہ ہم سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور اس دکھ کی گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

برطانیہ کی طرف سے بھی گل پلازہ آتشزدگی واقعے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ایکس پر لکھا کہ کراچی کے گل پلازہ میں المناک آگ کے واقعے پر دل شکستہ ہوں۔ میرے خیالات ان لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھودیا، زخمیوں اور اُن تمام افراد کے ساتھ جو ریسکیو ٹیموں کی جاری کوششوں کے دوران خبر کا انتظار کرتے رہے۔

واضح رہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی تباہ کن آگ 38 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بجھائی نہ جا سکی۔ عمارت کی تیسری منزل پر دوبارہ آگ بھڑک اٹھی ہے۔ طویل ریسکیو آپریشن کے دوران رات بھر کوششیں جاری رہیں، جن میں مزید تین لاشیں نکالی گئیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہو گئی ہے جبکہ 30 افراد زخمی ہیں۔ آگ کی شدت اور عمارت کی پیچیدہ ساخت کے باعث ریسکیو عملہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

Read Comments