اپ ڈیٹ 21 جنوری 2026 11:05am

خواجہ آصف اور پیزا ہٹ تنازع: اصل معاملہ کیا ہے؟

پنجابھ کے شہر سیالکوٹ میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے ایک ’پیزا ہٹ‘ آؤٹ لیٹ کے افتتاح نے ایک تنازع کو جنم دیا ہے۔ خواجہ آصف نے 20 جنوری کو اس دکان کا باقاعدہ افتتاح کیا اور اس کے چند ہی گھنٹوں بعد ’پیزا ہٹ پاکستان‘ نے اس آؤٹ لیٹ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

پیزا ہٹ پاکستان نے اپنے باضابطہ طور پر جاری بیان میں کہا کہ سیالکوٹ کینٹ میں کھلنے والا آؤٹ لیٹ غیر مجاز ہے اور غلط طور پر پیزا ہٹ کے نام اور برانڈنگ کا استعمال کر رہا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس آؤٹ لیٹ کا نہ تو پیزا ہٹ پاکستان سے اور نہ ہی اس کی پیرنٹ کمپنی ’یم برانڈز‘ سے کوئی قانونی یا عملی تعلق ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ آؤٹ لیٹ پیزا ہٹ کے بین الاقوامی معیار، ترکیبوں، فوڈ سیفٹی اور آپریشنل اصولوں پر عمل نہیں کرتا۔

پیزا ہٹ پاکستان نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر متعلقہ حکام کو باضابطہ شکایت درج کرا دی گئی ہے تاکہ ٹریڈ مارک کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

کمپنی کے اس بیان کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف کے افتتاح کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جس پر صارفین کی جانب سے طنزیہ تبصرے اور سوالات سامنے آئے۔

معروف اینکر پرسن عادل نظامانی نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ ”وزیر دفاع خواجہ آصف بھی معصوم ہی ہیں، جعلی پیزا ہٹ کے افتتاح سے پہلے چھان بین تو کرنی چاہئے تھی۔“

صحافی خرم اقبال نے بھی مبینہ ’جعلی پیزا ہٹ‘ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

کئی افراد نے یہ نکتہ اٹھایا کہ پیزا ہٹ پاکستان کی سرکاری ویب سائٹ اور اسٹور لسٹ میں سیالکوٹ کا یہ آؤٹ لیٹ شامل ہی نہیں ہے۔

کمپنی کے مطابق اس وقت پاکستان بھر میں پیزا ہٹ کے سولہ مجاز اسٹورز ہیں جن میں سے چودہ لاہور اور دو اسلام آباد میں واقع ہیں۔

تاہم، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک حامی ایکس صارف نے لکھا کہ، ’اس آؤٹ لیٹ کا باقاعدہ افتتاح فرنچائز کی ذاتی درخواست پر پاکستان کے وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے کیا تھا۔ میں خود اتوار کے روز اس آؤٹ لیٹ پر گیا اور وہاں سے ٹیک اوے آرڈر کیا۔ حیران کن طور پر بل بنانے کے لیے استعمال ہونے والا پوائنٹ آف سیل سسٹم واضح طور پر پیزا ہٹ کے نام سے تھا، جبکہ پیکنگ اور ساس بھی مکمل طور پر اصل لگ رہی تھیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بزنس آپریشن کے حوالے سے سب کچھ درست تھا۔‘

انہوں نے مزید لکھا کہ ’یہ صورتحال ایک سنجیدہ سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا آئندہ اگر کسی سیاسی شخصیت کو کسی کاروبار کے افتتاح کی دعوت دی جائے تو کیا اسے پہلے فرنچائز کے کاغذات اور کمپنی کی اجازت نامے خود دیکھنے ہوں گے؟ اگر ایسا ہے تو یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ اور غیر معقول مثال قائم ہو جائے گی۔ اس معاملے پر متعلقہ کارپوریٹ اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے واضح اور شفاف وضاحت کی اشد ضرورت ہے۔‘

اس صورتحال کے بعد خواجہ آصف کی ٹیم نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت جاری کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ”یہ تاثر غلط اور گمراہ کن ہے کہ وزیر دفاع نے کسی جعلی پیزا ہٹ کا افتتاح کیا“۔

ایکس پر “’ٹیم خواجہ آصف‘ کے نام سے موجود اکاؤنٹ نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ”پاکستان میں پیزا ہٹ ایک سے زیادہ مجاز فرنچائز پارٹنرز کے ذریعے کام کرتا ہے، جن میں یم فوڈز کے علاوہ ماکس انٹرنیشنل بھی شامل ہے“۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ”سیالکوٹ میں موجود پیزا ہٹ آؤٹ لیٹ ماکس انٹرنیشنل کے تحت چل رہا ہے اور مکمل طور پر قانونی اور مجاز ہے“۔

خواجہ آصف کی ٹیم کے مطابق ”اس آؤٹ لیٹ کے مرچنٹ اکاؤنٹ پیزا ہٹ کے نام سے رجسٹرڈ ہیں، وہاں پیزا ہٹ کا آفیشل پوائنٹ آف سیل سافٹ ویئر استعمال ہو رہا ہے، برانڈڈ مصنوعات موجود ہیں اور برانڈنگ و آپریشنل معیار عالمی اصولوں کے مطابق ہیں“۔

بیان میں عوام سے اپیل کی گئی کہ ”غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے بجائے حقائق پر اعتماد کریں“۔

Read Comments