ہاتھی کے گوبر سے تیار کردہ انوکھی کافی، ذائقے سے سائنس دان بھی حیران
کافی صرف ایک مشروب نہیں، بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے لیے صبح کی ضرورت اور خوشی کا ذریعہ بھی ہے۔ خاص طور پر ’کافی لوورز‘ کے لیے اس کی خوشبو ایک خوشگوار احساس رکھتی ہے، اور ہر گھونٹ تسکین دیتا ہے۔
کافی کے ذائقے بھی مزاج اور پسند کے مطابق منتخب کیے جاتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ’بےحد‘ پسند کی جانے والی کافی میں ایسا کیا شامل کیا جاتا ہے جس سے اس کا ذائقہ منفرد بن جاتا ہے۔ جی ہاں اس کافی کو اگر ایک حیران کُن کافی کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا یہ کافی ’بلیک آئوری‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
حال ہی میں ایک سائنسی مطالعے میں یہ راز افشا کیا گیا ہے کہ تھائی لینڈ میں تیار ہونے والی دنیا کی یہ منفرد ذائقے والی کافی کم تلخ کیوں ہوتی ہے؟
کافی کے بیجوں میں قدرتی طور پر پیکٹن نامی ایک مادہ موجود ہوتا ہے، یہ پیکٹن عام کافی کو زیادہ تُرش بناتا ہے لیکن ’بلیک آئوری‘ میں کڑواہٹ بہت کم ہوتی ہے، اس کی وجہ کافی کے بیجوں کو ایک پروسس سے گزارنا ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ ہاتھیوں کے معدے میں موجود مخصوص بیکٹیریا اس کافی کے ذائقے کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔
سائینٹیفک جرنل میں شائع کی گئی رپورٹ میں محققین نے ہاتھیوں کے ایک گروپ کے فضلے کے نمونے لیے جنہیں ’کافی کی چیریز‘ نہیں کھلائی گئی تھیں، ان کے بیجوں کا موازنہ اُس گروپ سے کیا گیا جن کو کافی کی چیریز کھلائی گئی تھیں۔ نتائج سے پتہ چلا کہ کافی چیریز کھانے والے ہاتھیوں کے معدے میں ایسے بیکٹیریا کی بڑی تعداد موجود تھی جو پیکٹن کو توڑتے ہیں۔
پیکٹن بھوننے کے دوران کڑواہٹ پیدا کرتا ہے، لیکن کافی کے بیج ہاتھی کے معدے میں رہنے کی وجہ سے اپنی کڑواہٹ کھودیتے ہیں یعنی ان کی کڑواہٹ میں نمایاں کمی آ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بلیک آئوری کافی کا ذائقہ منفرد اور کم ترش محسوس ہوتا ہے۔
اس طریقہ کار میں ہاتھیوں کو عربیکا کافی کے چیریز کھلائے جاتے ہیں، اور بعد ازاں یہ بیج ہاتھی کے فضلے سے احتیاط سے نکالے جاتے ہیں، پھر انہیں دھو کر صاف کیا جاتا ہے اور خشک کر دیا جاتا ہے۔
اس مرحلے پر جراثیم کا براہ راست اثر ختم ہو جاتا ہے، مگر اس پروسس سے پیدا ہونے والے کیمیائی مرکبات جیسے شوگرز، ایسڈز اور وولاٹائل کمپاؤنڈز بیجوں میں محفوظ رہتے ہیں۔ بعد میں بیجوں کو ہلکا بھون کر پیس لیا جاتا ہے، جس سے چاکلیٹی، میوہ دار اور کم کڑوا ذائقہ حاصل ہوتا ہے۔
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ کافی کے چیری کھانے والے ہاتھیوں کے معدے میں مائیکرو بایوٹا کی قسم زیادہ متنوع تھی، جس میں پیکٹن ہضم کرنے والے بیکٹیریا بھی شامل تھے۔ محققین کا ماننا ہے کہ کافی کے چیریز کھانے سے یہ بیکٹیریا معدے میں فروغ پاتے ہیں، جس سے ذائقہ بہتر ہوتا ہے۔
بلیک آئیوری کا شماردنیا کی مہنگی ترین کافی میں ہوتا ہے۔ لگژری ہوٹلز میں کافی کے شوقین افراد اسے 50 سے 85 ڈالر فی کپ تک ادا کر کے پینا پسند کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس کا منفرد ہلکا، چاکلیٹی اور ہلکا تُرش فلیوِرعام کافی سے کہیں زیادہ دلکش ہوتا ہے۔